’مذاکرات کے لیے مثبت ماحول ضروری ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 12:45 GMT 17:45 PST
سلمان خورشید

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ختم نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی کسی بھی پیش رفت کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کریں گے۔

سلمان خورشید نے یہ انٹرویو بھارتی نجی ٹی وی چینل سی این این آئی بی این کو دیا۔

اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش ایک مثبت اشارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی کشیدگی ہے تو اسے آپس میں بات چیت کے ذریعے ہی حل کرلیا جائے۔

سلمان خورشید کا کہنا تھا کہ بھارت کو امید تھی کہ پاکستان بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی جانب سے دیے گئے سخت پیغام کو سمجھے گا اور مثبت رویہ اختیار کرے گا۔

’مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے مثبت ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں امید ہے پاکستان بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے دیے گئے پیغام کو سمجھے گا۔‘

وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا تھا ’بعض مثبت اشارے ملے ہیں۔ ہم نے فوج کی جانب سے جو بیان سنا وہ مثبت ہے۔ گزشتہ روز دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان جو بات چیت ہوئی وہ خوش آئند تھی۔ لیکن ہمیں مکمل حالات کا جائزہ لینا ہوگا۔ ایک دو بیانات سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔‘

"مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے مثبت ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں امید ہے پاکستان بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے دیے گئے پیغام کو سمجھے گا۔"

سلمان خورشید

حالات کو حساس قرار دیتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا کہ بھارت حالات کو معمول پر لانا چاہتا ہے لیکن امن کے عمل کو آگے لے جانے کے لیے دونوں ممالک کو ایک ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ’اختلافات کو حل کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے ہوں گے اور دونوں ممالک کے مفادات اور جذبات کو دھیان میں رکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اس بارے میں ہمیں وزیر اعظم کی ہدایات کا انتظار رہے گا‘۔

جنوری میں پاکستانی وزیرِ تجارت کے بھارتی دورے کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’مجھے اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے کہ ان کی ملاقات منسوخ ہوئی ہے یا ہورہی ہے۔ ایک بار میں ایک ہی مسئلے پر بات چیت کرنی چاہیے‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کشمیر کے متنارع علاقے کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے حل کے لیے اپنے بھارتی ہم منصب کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔

کنٹرول لائن پر دو طرفہ فائرنگ کے واقعات میں اب تک پاکستان اپنے تین جبکہ بھارت دو فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتا ہے۔

نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حنا ربانی کھر نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے مفاد میں نہیں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے پر بھارتی ذرائع ابلاغ اور کچھ بھارتی رہنماؤں کا منفی رویہ مایوس کن ہے اور ایسے بیانات کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔