کمبھ میں لوگوں کی گنتی کیسے ہوتی ہے ؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 19 جنوری 2013 ,‭ 10:23 GMT 15:23 PST

میلے میں شریک ہونے والے لوگوں کی گنتی امن و قانون قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر میں ہر بارہ برس بعد منعقد ہونے والا مہا کمبھ میلے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پورے دنیا میں منعقد ہونے والا سب سے وسیع مذہبی اجتماع ہے۔

مہا کمبھ میلے کا انعقاد اس عقیدے کے تحت ہوتا ہے کہ گنگا کے پاک پانی میں نہانے سے سارے گناہ دھل جاتے ہیں۔ ہر بارہ برس منعقد ہونے والے اس میلے میں حصہ لینے کے لیے لاکھوں عقیدت مند الہ آباد کا رخ کرتے ہیں۔

اس میلے کے انعقاد کرانے والے حکام کا کہنا ہے کہ کمبھ کے پہلے دن یعنی چودہ جنوری کو اسی لاکھ لوگوں نے میلے میں شرکت کی۔ یہ میلہ پچپن دن تک جاری رہے گا اور میلے میں حصہ لینے ہر روز لوگ آلہ آباد پہنچ رہے ہیں۔

دوہزار ایک میں اس میلے کے پہلے دن تقریبا پچیس لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔

لیکن اس برس کے مہا کمبھ کے افتتاحی روز لوگوں کی شرکت جو تعداد شہری انتظامیہ نے دی تھی وہ اس تعداد سے بالکل جدا ہے جو میلے کے انتظام کی ذمہ داری سنبھالنے والے اعلی پولیس اہلکار آلوک شرما نے بتائی ہے۔

مہا کمبھ کی انتطام کی ذمہ داری ہزاروں ریاستی اہلکاروں کی ہوتی ہے جن کی قیادت مشترکہ طور پر شہری اور پولیس انتظامیہ کرتی ہے۔

"میلے میں شریک ہونے والے عقیدت مندوں کی اصل تعداد کا اندازہ بے حد مشکل عمل ہے کیونکہ اس تعداد کے بڑھنے کے امکانات رہتے ہیں"

آلوک شرما، پولیس افسر

آلوک شرما کا کہنا ہے ’میرے حساب سے مہا کمبھ کے افتتاحی روز صرف پندرہ سے اٹھارہ لاکھ عقیدت مندوں نے شرکت کی تھی۔‘

آلوک شرما کو اس بارے میں صحیح معلومات اس لیے ہوسکتی ہیں کیونکہ انہوں نے دوہزار ایک میں مہا کمبھ کی انعقاد کی ذمہ داری سنبھالی تھی اس کے علاوہ انہوں نے انیس سو اٹھانوے اور دوہزار دس میں ہری دوار میں منعقد ہونے والے کمبھ میلے کی ذمہ داری بھی سنبھالی تھی۔

انہیں صرف نہ ان میلوں کے انعقاد کا تجربہ ہے بلکہ ان کا یہ اندازہ ان ساڑھے آٹھ ہزار پولیس افسروں کی جانب سے کی جانے والی گنتی پر بھی مبنی ہے جو ان کے زیر قیادت میلے کا انتظام سنبھالتے ہیں۔

آلوک شرما کہتے ہیں کہ ان کے اہلکار میلے میں شریک ہونے والوں کی گنتی کے لیے دو طریقہ کار اپناتے ہیں۔

میلے میں شریک ہونے والے لوگوں کی گنتی امن و قانون قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

پہلا طریقہ کار یہ کہ آلہ آباد کی طرف جانے والے ساتھ اہم راستوں پر سوار لوگوں کو گنا جاتا ہے اس تصور کے ساتھ ان راستوں سے آلہ آباد جانے والے سبھی افراد کمبھ میلے میں شریک ہونے جارہے ہیں۔

سادھو

کمبھ میں مختلف طرح کے سادھو حصہ لیتے ہیں

آلہ آباد کی طرف جانے والے ان راستوں پر شہر کے قریب تقریبا دس میٹر تک ایک لائن کھینچ دی جاتی ہے اور اس لائن پر ہر منٹ گزرنے والے افراد کو گنا جاتا ہے۔

آلوک شرما کا کہنا ہے کہ پولیس کے سامنے ایک مشکل یہ ہے کہ وہ شہر کی گلیوں سے گزر کر مہا کبھ کے مقام پر جانے والوں کی گنتی نہیں کرپاتے ہیں جو آلوک شرما کے مطابق کل ٹریفک کا ’تیس فی صد حصہ‘ ہوتے ہیں۔

دوسرا طریقہ کار یہ ہے کہ ان افراد کی گنتی کی جاتی ہے جو سخت سیکورٹی والے مہا کمبھ میلے کے مقام میں داخل ہوتے ہیں۔اس طریقہ کار کا مقصد پہلے طریقہ کار کے تحت جمع کی گئی لوگوں کی تعداد سے ملا کر دیکھنا ہوتا ہے اور پھر اصل تعداد کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

آلوک شرما کا کہنا ہے کہ گنگا کے اوپر لگے پل کے راستے میلے میں شریک ہونے والے لوگوں کی گنتی نہیں کی گئی ہے۔

آلوک شرما نے میلے کے افتتاحی روز شرکاء کی جو تعداد بتا‏‏ئی وہ انکی ٹیم کی جانب سے دونوں طریقہ کار کے بعد طے کی گئی تعداد اور جتنے لوگ آلہ آباد ریلوے سٹیشن پر اترے ان کو ملا کر پیش کی گئی ہے۔

آلوک شرما مزید بتاتے ہیں’میلے میں شریک ہونے والے عقیدت مندوں کی اصل تعداد کا اندازہ بے حد مشکل عمل ہے کیونکہ اس تعداد کے بڑھنے کے امکانات رہتے ہیں۔‘

لیکن کیا کمبھ جیسے مذہبی اجتماع میں شریک ہونے والوں کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانے کا کوئی طریقہ ہے؟

آلوک شرما اس بارے میں بتاتے ہیں ’دوہزار دس میں ہری دوار میں منعقد ہونے والے کمبھ میلے میں ہم نے سیٹلائٹ کے ذریعے شرکاء کی تصاویر جمع کی تھیں جس سے ہمیں میلے کے دو سب سے مصروف دنوں میں لوگوں کی تعداد کا پتہ لگانے میں مدد ملی تھی جو کہ سولہ ملین کے قریب تھی۔ لیکن وہ بہت حقیقی تعداد نہیں لگتی تھی۔ مجھے یہ طریقہ کار بہت صحیح نہیں لگا تھا۔‘

سیٹلائٹ کے ذریعے لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگانے والے اور اس بار کے مہا کبمھ میں لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگانے والے طریقہ کار میں فرق کیا تھا؟

آلوک شرما کہتے ہیں کہ ’آدھا یا آٹھ ملین کا فرق ہوگا‘۔

تو پھر اس مہا کمبھ کے افتتاحی روز شرکاء کی سرکاری تعداد پیش کرنے کی ذمہ داری کس کی تھی؟

پولیس سپرٹنڈنٹ ہری نارائن سنگھ میلے کے افتتاح کے روز میلے کے انتظام پر نظر رکھنے کے لیے کنٹرول روم میں تھے۔انہوں نے سنان کے روز پورے دن ’اوبزرویشن ٹاورز‘ کے اہلکاروں سے رابطہ قائم کیا ہوا تھا۔

تونارائن سنگھ کے ساتھیوں نے لوگوں کی تعداد کا اندازہ کس طرح لگایا؟

’ہم پہلے گنگا میں داخل ہوتے ہوئے اور گنگا سے نکلتے ہوئے لوگوں کو گنتے ہیں۔ اور پھر ہم گھنٹوں تک لوگوں کو گنتے ہیں۔ ہم دو ہزار ایک میں بھی یہاں تھے اور ان اعدادوشمار سے بھی اندازہ لگانے میں مدد ملی ہے۔‘

تو ایسا کوئی طریقہ کار نہیں ہے جس سے اعدادوشمار سے متعلق بڑی غلطی کا اندازہ لگایا جاسکے؟

نارائن سنگھ کا کہنا ہے کہ ’ ایسا کوئی سائنسی طریقہ نہیں ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔