بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں صدر راج نافذ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 19 جنوری 2013 ,‭ 13:34 GMT 18:34 PST
ارجن منڈااور شیبو سورین

جھارکھنڈ میں گزشتہ بارہ سال میں آٹھ حکومت رہی ہے۔

بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں دس دنوں کے سیاسی تعطل کے بعد بالآخر جمعہ کو صدر راج نافذ کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ بارہ سال قبل بہار سے علیحدہ ہو کر وجود میں آنے والی اس نئی ریاست جھارکھنڈ میں تیسری بار صدر راج نافذ ہوا ہے۔

اس سے پہلے یہاں سنہ دوہزار نو اور دو ہزار دس میں صدر راج لگایا گیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ایوان صدر کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر پرنب مکھرجی نے کولکتہ کے اپنے دورے کے دوران ہی ریاست میں صدر راج کے نفاذ کے لیے باضابطہ طور پر دستخط کر حکم دے دیا۔

جمعرات کو مرکزی کابینہ نے بھی صدر راج کی منظوری دی تھی۔ کابینہ نے جھارکھنڈ کے گورنر سید احمد کی اس رپورٹ پر بحث کی تھی جس میں انہوں نے اکیاسی رکنی اسمبلی کو معطل کر کے صدر راج کے نفاذ کا مشورہ دیا تھا۔

جھارکھنڈ سنہ دو ہزار سے ہی سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے اور یہاں اب تک آٹھ دفعہ حکومت بن چکی ہے۔

موجودہ سیاسی تعطل آٹھ جنوری کو اس وقت شروع ہوا جب بی جے پی کی قیادت والی منڈا حکومت سے جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے اٹھائیس ماہ تک جاری رہنے والی اپنی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

اس کے بعد جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ارجن منڈا نے اپنا استعفی گورنر کو سونپ دیا تھا۔

اکیاسی رکنی اسمبلی میں جے ایم ایم اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے پاس اٹھارہ اٹھارہ رکن اسمبلی تھے جبکہ اے جے ایس کے چھ اور جے ڈی یو کے دو ایم ایل اے تھے۔

حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے ریاستی اسمبلی میں تیرہ، جھارکھنڈ وکاس مورچہ (پی) کےگیارہ اور آر جے ڈی کے پانچ ارکان اسمبلی تھے۔

جھارکھنڈ میں حکومت بنانے کے لیے اکتالیس اراکین اسمبلی کی حمایت ضروری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔