پاکستان نے ایل او سی پر’غیر انسانی‘ کام کیا ہے: منموہن سنگھ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 10:15 GMT 15:15 PST
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ

منموہن سنگھ پر اس معاملے میں سیاسی جماعتوں کا خت دباو رہا ہے

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان نے جو غیر انسانی کام کیا ہے اس سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔

بھارت کی حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کا سالانہ اجلاس جے پور میں جاری ہے اور اتوار کو اس سے خطاب کے دوران وزیراعظم منموہن سنگھ نے یہ بات کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ لائن آ‌ف کنٹرول پر دو بھارتی فوجیوں کے قتل سے بھارت میں شدید غم و غصہ ہے اور اسلام آباد کو چاہیے کہ اب وہ عمل سے ثابت کرے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا ’آٹھ جنوری کو ایل او سی پر پاکستان نے غیر انسانی کام کیا ہے۔ ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ اس سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔‘

وزیراعظم منموہن سنگھ نے مزید کہا ’ ہم پاکستان کے ساتھ اچھے رشتے چاتے ہیں لیکن پاکستان کو بھی اسی سمت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ہماری کوششوں سے ممکن نہیں ہے۔‘

بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا ’ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں کا مستقل جائزہ لیتے ہیں۔ اس واقعے نے ہمارے رشتوں پر منفی اثر ڈالا ہے۔ ہم بڑے احتیاط اور غور و فکر کے بعد ہی کوئی قدم اٹھائیں گے۔‘

"آٹھ جنوری کو ایل او سی پر پاکستان نے غیر انسانی کام کیا ہے۔ ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ اس سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ اچھے رشتے چاتے ہیں لیکن پاکستان کو بھی اسی سمت میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ہماری کوششوں سے ممکن نہیں ہے۔"

منموہن سنگھ

ملک کے کونے کونے سے آئے کانگریس پارٹی کے رہنماؤں، پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی نے منموہن سنگھ کے بیان کو سراہا۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ آٹھ جنوری کو لائن آف کنٹرول پر اس کے دو فوجیوں کو پاکستانی فوجیوں نے ہلاک کر دیا تھا اور اس وقت سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگي پڑھ گئی ہے۔

چند روز قبل بھی بھارتی وزیر اعظم نے ایک سخت پیغام میں کہا تھا کہ اس واقعے کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہ سکتے ہیں۔

بعض سخت گیر ہندو جماعتوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد بھارت نے اس کے رد عمل میں بھارت موجود تمام پاکستانی کھلاڑیوں کو واپس بھیج دیا ہے اور دیگر فنکاروں کے مختلف پروگرام بھی منسوخ کر دیےگئے۔

جے پور کے اس اجلاس میں کانگریس پارٹی کے مختلف رہنماؤں نے جہاں ملک کے مختلف ایشوز پر بات کی وہیں پاکستان کے ساتھ بگڑتے تعلقات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

کانگریس پارٹی کے اجلاس میں پاکستان کے ساتھ تعلقات پر غور و فکر ہوا ہے

اجلاس کے پہلے روز ہی سونیا گاندھی نے اپنے افتتاحی خطاب میں ایل او سی کے مسئلے پر بات چیت کی تھی اور سخت لہجہ اپنایا تھا۔ انہوں نے بھی یہی کہا تھا کہ ایل او سی پر پاکستان کے اس طرح کے رویہ کو برداشت نہیں کیا جائےگا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے لائن آ‌ف کنٹرول پر ہوئے واقعات پر مبنی خبروں کو بڑے اشتعال انگیز طور پر نشر کیا تھا جس کے بعد حکومت نے اپنا رد عمل ظاہر کرنا شروع کیا ہے۔

جنوری کے پہلے ہفتے میں لائن آ‌ف کنٹرول پر پہلے پاکستان نے اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت کے لیے بھارت سے شکایت کی تھی اور احتجاج کیا تھا۔ لیکن بھارت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

اس کے چند روز بعد ہی بھارت نے اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت کے لیے پاکستان سے احتجاج کیا جسے پاکستان نے بھی مسترد کر دیا تھا اور اقوام متحدہ سے اس کی تفتیش کی پیشکش کی تھی۔

بھارت کا مطالبہ ہے کہ پاکستان اس واقعے کی تحقیق کرے اور جو بھی اس کا مرتکب ہو اسے سزا دی جائے۔ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا تھا کہ پاکستانی فوج کی جارحانہ کارروائي اور اشتعال انگیز اقدام بھارت کو یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

لیکن پاکستانی وزير خارجہ حنا ربّانی کھر نے اس معاملے پر اشتعال انگیز بیان بازی سے احتراز کرنے پر زور دیتے ہوئے بات چيت کی پیش کش کی تھی جس کا بھارت نے کوئي مثبت جواب نہیں دیا۔

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ نے کہا تھا کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج نے منظم انداز میں کارروائی کی تھی جس کا ’ہم اپنی پسند کے وقت اور اپنی پسند کی جگہ پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔‘

اپوزیشن جماعت بی جے پی کی رہنما سشما سوراج نے کہا تھا کہ اگر بھارتی فوجی کا سر واپس نہیں آتا تو اس کے بدلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ دس پاکستانیوں کے سر کاٹ کر لائے۔

بھارت میں ان واقعات پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ایک بار پھر خراب ہوتے نظر آرہے ہیں۔

حالانکہ کسی بھی جانب سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی منسوخی کا مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان حال میں ہوئے ویزے میں نرمی کے معاہدے پر عمل بھی پندرہ جنوری سے شروع ہونا تھا لیکن اسے بھی موخر کر دیا گيا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔