بھارت: ابلتی دیگ میں کودنے والی خواتین ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 10:09 GMT 15:09 PST
درگاہ میں رکھی دیغ

دونوں ماں بیٹی نے اجمیر کے سرکاری ہسپتال میں دم توڑ دیا ہے

ریاست راجستھان کے شہر اجمیر میں وا‏قع خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ میں ابلتی ہوئی دیگ میں چھلانگ لگانے والی ماں بیٹی ہلاک ہوگئیں ہیں۔

ریاست کیرل سے تعلق رکھنے والی یہ دونوں خواتین جمعرات کو درگاہ میں رکھی دیگ میں کود گئی تھی۔

چونکہ دیگ میں کھانا پک رہا تھا اس لیے یہ دونوں خواتین اسی فی صد جھلس گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق پہلی بیٹی سرینا اس دیگ میں کودی اور پھر ان کی ماں سلفجہ بھی دیگ میں کود گئیں۔

دونوں کو شدید زخمی حالات میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ پولیس کے لیے سب سے بڑی دقت یہ تھی کہ یہ دونوں ملیالم زبان بولتی تھی اس لیے ان سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ محض عقیدت کا معاملہ تھا یا پھر خودکشی۔

درگاہ کے علاقے کے تھانے کے ایک سینئیر پولیس اہلکار انل سنگھ نے بتایا ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا یا ان لوگوں نے جان بوجھ کر ابلتی ہوئی دیگ میں چھلانگ لگائی تھی۔

پولیس نے ان دونوں خواتین سے بات کرنے کے لیے ایک ملایالم زبان والے شخص سے ان کی بات کرائی لیکن تب یہ دونوں خواتین زیادہ بات کرنے کی حالت میں نہیں تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے اجمیر میں تھیں اور درگاہ آتی جاتی تھیں۔

پولیس نے مرحوم خاتون سلفجہ کے بیٹے کو اطلاع دے دی ہے۔ وہ دبئی میں رہتے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اجمیر پہنچنے والے ہیں۔

پولیس نے کہا ہے کہ مذکورہ خاتون کی معاشی حالت ٹھیک نہیں تھی۔

پولیس کے مطابق معاملے کی تفتیش جاری ہے اور وہ یہ پتہ لگانے کی کوشش کرر ہے ہیں کہ کہیں ان خواتین نے خودکشی تو نہیں کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔