آوارہ کتوں کا حملہ، اکتیس کالے ہرن ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 07:33 GMT 12:33 PST
کالے ہرن

بھارت میں کالے ہرن ایک نایاب جانور ہے جس کے شکار پر سخت پابندی ہے

بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور میں آوارہ کتوں نے ایک چڑیا گھر میں گھس کر اکتیس کالے ہرنوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ کانپور کے چڑیا گھر کے انتظامیہ کی لاپرواہی کے سبب پیش آیا ہے۔

چڑیا گھر کی دیوار ٹوٹی ہوئی تھی جس کی مرمت کا کام ہونا تھا لیکن وقت پر مرمت نہیں ہوئی اور سنیچر کی رات بعض آوارہ کتے چڑیا گھر میں گھس آئے اور انہوں نے کالے ہرنوں پر حملہ کر دیا۔

چڑیا گھر کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح جب وہ چڑیا گھر کا معائنہ ہوا تو دیکھا گیا کہ کتے مرے ہوئے ہرنوں کو کھا رہے تھے۔

کالے ہرنوں کی اموات سے متعلق طبی تفتیش میں بتایا گیا ہے کہ کتوں نے چھ کالے ہرنوں پر حملہ کیا جبکہ باقی ہرن ڈر کر دل کا دورہ پڑنے سےمرگئے اور بعد میں کتوں نے انہیں بھی بھنبھوڑ ڈالا۔

سرکاری بیان کے مطابق ریاست کے وزیراعلی اکھیلیش یادو نے اس واقعہ کی تفتیش کے احکامات دیے ہیں اور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر سمیت چھ اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکھیلیش یادو نے کانپور کی ضلع انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کو آوارہ کتوں کے خلاف مہم چلانے کا حکم دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس بات کی بھی تفتیش کا حکم دیا ہے کہ آخر یہ کتے ہرنوں کے پنجرے میں کیسے گھسے۔

اطلاعات کے مطابق کانپور کے اس چڑیا گھر میں کل اڑتیس کالے ہرن تھے لیکن اب صرف سات رہ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں کالا ہرن ایک نایاب جانور ہے جس کا شکار ایک قانونی جرم ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔