اوم پرکاش چوٹالا کو بدعنوانی پر دس برس قید

آخری وقت اشاعت:  منگل 22 جنوری 2013 ,‭ 08:23 GMT 13:23 PST
اوم پرکاش چوٹالا

اوم پرکاش اور ان کے بیٹے کے علاوہ اس معاملے میں قصوروار ٹھہرائے گئے تین اعلی افسروں کو بھی دس سال کی سزا سنائی گئی ہے

دلی کی ایک عدالت نے ہریانہ کے سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالا کو سنہ دو ہزار میں سکولوں میں اساتذہ کی تقرری سے متعلق بدعنوانی کے معاملے میں دس برس قید کی سزا سنائی ہے۔

اوم پرکاش اور ان کے بیٹے کے علاوہ اس معاملے میں قصوروار ٹھہرائے گئے تین آئی پی ایس افسروں کو بھی دس سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس معاملے میں اوم پرکاش چوٹالا ان کے بیٹے اجے چوٹالا اور دیگر ترپن افراد کو قصوروار قرار دیا گیا تھا۔

دلی کے روہنی علاقے کی عدالت نے منگل کی صبح جس وقت یہ فیصلہ سنایا اس وقت عدالت سے باہر بڑی تعداد میں چوٹالا کے حمایتی موجود تھے جنہوں نے عدالت کے باہر زبردست ہنگامہ کیا اور عدالت کے باہر پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی۔

اس کے بعد پولیس اور اوم پرکاش چوٹالا کے حمایتوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اوم پرکاش چوٹالا کے حمایتیوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا اور اس دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعات کے خدشے کے پیش نظر عدالت کے سبھی اہم داخلی دروازوں کو بند کر دیا گیا۔

تازہ اطلاعات کے مطابق منگل کی دوپہر تک بڑی تعداد میں اوم پرکاش چوٹالا کے حمایتی عدالت کے باہر موجود ہیں اور وقتا فوقتاً اپنے غصے کے اظہار کررہے ہیں۔

عدالت کے جج نے صرف اس معاملے سے متعلق وکلاء اور دیگر افراد کے علاوہ کسی کو بھی عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی۔

سی بی آئی کے خصوصی جج ونود کمار نے پیر کو ہی معاملے کی سماعت پوری کر لی تھی۔

عدالت نے دس جنوری کو اوم پرکاش چوٹالا، اجے چوٹالا اور ترپن ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے سنہ دوہزار میں ریاست ہریانہ میں رشوت لے کر بتیس ہزار چھ افراد کو سکولوں میں ملازمت دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ان افراد سے چار چار لاکھ روپئے رشوت کے طور پر لیے گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔