سیاست میں آنسوؤں کا استعمال

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 14:12 GMT 19:12 PST

’مگرمچھ کے آنسو‘ محاورہ پتہ نہیں کس طرح اور کب بنا لیکن یہ طے ہے کہ اس کا سب سے زیادہ استعمال لیڈروں کے لیے ہوتا ہے۔

یہ ایک خیال بن گئی ہے کہ کسی صورتحال پر لیڈر اگر آنسو بہائےگا تو وہ دکھاوے کے لیے ہی ہوگا یعنی اس کا دل دكھتا ہی نہیں۔

کیا عام طور پر بہائے گئے آنسو کسی رہنما کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں یا ان کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتے ہیں؟

جے پور میں کانگریس چنتن کیمپ میں راہل گاندھی نے یہ کہہ کر سب کو جذباتی کر دیا کہ جس دن انہیں کانگریس کا نائب صدر منتخب کیا گیا، ان کی والدہ سونیا گاندھی صبح صبح ان کے کمرے میں آئیں اور ان سے گلے لگ کر روئیں۔

اس قصے کو سن کر کئی کانگریسی لیڈر روتے دیکھے گئے۔

اندرا گاندھی

وقت وقت کی بات ہے۔

ان ہی راہل گاندھی کی دادی اندرا گاندھی کو کم از کم عام طور پر رونے سے کافی پرہیز تھا۔

ان کے چھوٹے بیٹے سنجے گاندھی کی موت پر جب ان کے ساتھی ہمدردی کا اظہار کرنے گئے تو وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ اتنے بڑے صدمے کے بعد بھی ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔

بھارت کے لوگوں کو وہ وقت نہیں بھولا ہے جب اپنے بیٹے کی لاش کے سفر کے دوران انہوں نے ایک چشمہ لگا رکھا تھا کہ اگر ان کی آنکھیں نم بھی ہو رہی ہوں تو ملک کے لوگ یہ نہ دیکھ سکیں۔

اڈوانی کے آنسو

دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر لال کرشن اڈوانی ہیں جو بات بات پر اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں کہ ان کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لیتے۔

ابھی حال ہی میں جب ان کی پارٹی کی ہی اوما بھارتی نے ان کی تعریف کرنی شروع کی تو اڈوانی کے آنسو بہہ نکلے اور انہوں نے اسے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔

گزشتہ دنوں جب سشما سوراج نے لوک پال کے ایشو پر لوک سبھا میں بیان دیا تب بھی اڈوانی اپنے آپ کو روک نہیں پائے اور ان کی آنکھیں نم ہو آئیں۔

اس کے ٹھیک برعکس جواہر لال نہرو کو سرعام رونے سے نفرت تھی۔

صرف ایک بار ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھے گئے تھے، جب بھارت چین جنگ کے بعد لتا منگیشکر نے ’ذرا آنکھ میں بھر لو پانی‘ گیت گایا تھا۔

لنکن اور ایڈمنڈ مسکی

ابراہام لنکن نے بہت پیشہ وارانہ طور پر اپنی تقریروں میں آنسوؤں کا استعمال کیا تھا۔ باہر سے کافی مضبوط سمجھے جانے والے ونسٹن چرچل بھی پارلیمنٹ میں آنسو بہانے سے اچھوتے نہیں تھے۔

’آئرن لیڈی‘ کہی جانے والی مارگریٹ تھیچر کی بھی کئی تصاویر ہیں جب اپنی سرکاری گاڑی میں بیٹھے ہوئے کسی بات کو سوچ کر ان کے ہونٹ کانپ اٹھے تھے۔

عورتوں کے ساتھ تو دوہری مصیبت ہیں۔ اگر وہ روئیں تب بھی برا اور نہ روئیں تب بھی برا!

میں براک اوباما سے آئی اووا پرائمري ہارنے کے بعد جب ہلری کلنٹن روئیں تو ان کے معاونین کو لگا کہ اس کا انہیں سیاسی خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ لیکن حقیقت میں اس کا انہیں فائدہ ہوا اور خواتین کے کئی ووٹ انہیں ملے۔

لیکن 1972 میں ایڈمنڈ مسكي کی امریکہ کے صدر بننے کی خواہش صرف اس لیے پوری نہیں ہو سکی کیونکہ اخباروں کی طرف سے ان کی اہلیہ کی تنقید کرنے پر وہ سرعام رونے لگے۔

ابھی بھی کئی ملک ایسے ہیں جہاں عام طور پر رونا کمزوری کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

انسانی جذبات کو عام طور پر اظہار کرنا یا نہ کرنا کسی سیاستداں کا اپنا فیصلہ ہو سکتا ہے لیکن اگر انہیں ووٹ بٹورنے کا صرف ایک طریقہ مان لیا جائے تو اس پر سوال اٹھنے فطری ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔