بی جے پی کا شندے کی برطرفی کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 15:35 GMT 20:35 PST

بی جے پی کے نئے صدر راج ناتھ سنگھ نے شندے کی برطرفی کے لیے تحریک کا آغاز کیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ ان کو برطرف کیا جائے

بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہندو دہشت گردی سے متعلق بیان دینے پر وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کو کابینہ سے برطرف کر دیں۔

بی جے پی نے شندے کے خلاف ملک گیر تحریک کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اکر شندے کو برطرف نہیں کیا گیا تو وہ پارلیمنٹ کا اجلاس چلنے نہیں دے گی۔

وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے گزشتہ دنوں کانگریس کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ہندو دہشت گردی کو فروغ دی رہی ہیں۔

بی جے پی کے نئے صدر راج ناتھ سنگھ نے شندے کی برطرفی کے لیے تحریک کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر شندے کو ہٹایا نہیں گیا تو بی جے پی پارلمیان کا اجلاس نہیں چلنے دے گی ۔ شندے کو ہر حال میں جانا ہوگا۔‘

لوک سبھا میں حزب اختلاف کی رہنما سشما سوراج نے کہا کہ مسٹر شندے کے بیان پر وزیر اعظم منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی معافی مانگیں ’اور وزیر داخلہ کو ان کے غیر ذمےدارانہ بیانات کی وجہ سے برطرف کریں‘۔

"بی جے پی اپنے اندرونی اختلافات سے توجہ ہٹانے کے لیے غیر ضروری معاملات کو اچھال رہی ہے ۔پارٹی کی سینئر رہنما رینوکا چودھری نے کہا ’بی جے پی اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ اسے حال ہی میں اپنے صدر کو ہٹانا پڑا ہے۔ شندے نے کیا غلط بات کہی ہے؟ وہ وزیر داخلہ ہیں اور ان کے پاس ثبوت ہے۔"

کانگریس کی سینئر رہنما رینوکا چودھری

دلی میں ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کانگریس نے شندے کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی اپنے اندرونی اختلافات سے توجہ ہٹانے کے لیے غیر ضروری معاملات کو اچھال رہی ہے۔

پارٹی کی سینئر رہنما رینوکا چودھری نے کہا ’بی جے پی اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ اسے حال ہی میں اپنے صدر کو ہٹانا پڑا ہے۔ شندے نے کیا غلط بات کہی ہے؟ وہ وزیر داخلہ ہیں اور ان کے پاس ثبوت ہے۔‘

کانگریس کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے بھی شندے کے بیان کا دفاع کیا ہے ’راج ناتھ سنگھ اور اوما بھارتی معافی مانگیں اور یہ بتائیں کہ انہوں نے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گئے ہندو شدت پسندوں سے جیل میں کیوں ملاقات کی تھی۔ اور ایل کے اڈوانی نے ان دہشت گردوں کی پیروی کیوں کی تھی۔‘

بھارت کا قومی تفتیشی بیورو یعنی این آئی اے سمجھوتہ ایکسپریس ، مکہ مسجد اور مالےگاؤں میں بم دھماکوں سمیت کئی معاملات کی تفتیش کر رہا ہے۔ حال میں اس نے کئی دیگر معاملات میں بھی ہندو تنظیموں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔