چھتیس گڑھ: طالبہ کی گینگ ریپ کے بعد خود کشی کی کوشش

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 26 جنوری 2013 ,‭ 17:30 GMT 22:30 PST
ریپ کی شکار

ریپ کی شکار لڑکی نے جب خودکشی کی کوشش کی تو یہ معاملہ سامنے آیا

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے جاجگير ۔ چانپا ضلع کے اكلترا علاقے میں کالج کی ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے معاملے میں پولیس نے ایک لڑکی سمیت تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس معاملے میں ایک اور ملزم ہے جو ابھی بھی فرار ہے۔ متاثرہ طالبہ کو فی الحال بلاسپور کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

اس معاملے کے نتیجے میں ابھی تک ایک پولیس افسر کا تبادلہ ہو چکا ہے جبکہ دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس پورے معاملے میں پولیس کے کردار پر سوال اٹھنے لگے ہیں کیونکہ ملزمان با اثر خاندان کے بتائے جاتے ہیں۔

یہ معاملہ بدھ کو اس وقت سامنے آیا جب متاثرہ طالبہ نے خود کشی کرنے کی کوشش کی۔

گھر والوں کا الزام ہے کہ متاثرہ طالبہ اپنی ایک سہیلی کے بلانے پر اس کے گھر گئی تھی جہاں اسے کولڈ ڈرنکس میں نشہ آور شے پلائی گئی۔ جس کے بعد تین نوجوانوں نے باری باری سے اس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ طالبہ کی بہن کا کہنا ہے کہ ملزمان نے آبروریزی کی ویڈیو بھی بنائی ہے۔

گھر والوں کا کہنا ہے کہ ملزم آبروریزی کی ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈالنے کی دھمکی دے کر طالبہ کا مسلسل ریپ کرتے رہے۔

اس سے تنگ آ کر طالبہ نے بدھ کو جراثیم کش دوا پی کر خود کشی کرنے کی کوشش کی۔ پہلے اسے اكلترا کے ایک مقامی ہسپتال لے جایا گیا اور بعد میں اسے بلاسپور کے سِمس ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

ہفتہ کو ایک بار پھر اسے دوسرے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔

دلی میں مظاہر

اس سے قبل دلی میں ہوئے ریپ کے واقعے نے پورے ملک کو اس مسئلے پر مشتعل کر دیا تھا

گھر والوں کو متاثرہ طالبہ کا لکھا ایک ’سوسائڈ نوٹ‘ بھی ملا ہے۔ اس نوٹ کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اس میں پورا معاملہ درج ہے اور ملزمان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

شروع میں پولیس پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ معاملے کو اس لیے دبانے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ ملزم کافی اثر و رسوخ والے ہیں۔

ان میں ایک کانگریسی رہنما کا بیٹا ہے تو دوسرے ملزم کا خاندان بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر کا قریبی بتایا جاتا ہے۔ تیسرا ملزم بھی پیسے والا ہے۔

بہر حال جاجگير ۔ چانپا ضلع کے پولیس اہلکار پرشوتم گوتم نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ پولیس ملزموں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بہت سنگین ہے اور اس میں شامل کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔

مگر متاثرہ طالبہ کے گھر والوں کو پولیس کے دعوؤں پر شک ہے کیونکہ بدھ کو معاملے کا ایک ملزم تھانے سے ہی فرار ہو گیا تھا۔

تاہم پولیس دعوی کر رہی ہے کہ متاثرہ طالبہ کا بیان درج کر لیا گیا ہے مگر ابھی یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ طالبہ نے آخر کیا کہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔