’پاکستان سے آکر جے پور کے چکر ہی کاٹے ہیں بس‘

آخری وقت اشاعت:  پير 28 جنوری 2013 ,‭ 12:40 GMT 17:40 PST
پاکستانی طالب علم

بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کا اثر ہر شعبے میں نظر آیا ہے

بھارت میں ریاست راجھستان کے شہر جے پور میں منعقد ہونے والے جے پور ادبی میلے میں شرکت کے لیے آنے والے کرنے آئے پاکستانی طلباء اور ٹیچرز کے ایک وفد کا کہنا ہے بھارتی اہلکاروں نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس سے ان کا سفر بے مزہ رہا ہے۔

پاکستان کے شہر لاہور میں واقع فورمن کرسچن کالج کے تین طلباء اور دو پروفیسر جے پور میں منعقد ہونے والے ادبی میلے میں شرکت کے لیے آئے تھے لیکن ان کو یہ سفر نفیساتی اور معاشی طور پر کافی مہنگا پڑا۔

فورمین کالج کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر یعقوب خان، اور شعبہ سیاست کے پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین کے ساتھ ان کے تین طلباء علی ضياء جعفری، سرمد حسین اور ترہب اصغر جے پور ادبی میلے میں حصہ لینے کے لیے چوبیس تاریخ کی صبح واگہہ سرحد کے راستے بھارت پہنچے۔

ان افراد کے مطابق واگہہ سرحد پر موجود بھارتی اہلکاروں نے ان سے کہا آپ دلی جانا چاہیں تو دلی جائیں، جے پور جانا چاہیں تو جے پور، آپ کو پوری آزادی ہے۔

یہ لوگ واگہہ سرحد سے ٹرین کے ذریعے جے پور آنے والے تھے لیکن آخری وقت میں اطلاع ملی کی ٹرین منسوخ ہوگئی ہے جس کے بعد انہیں دلی آنا پڑا۔

اس کے بعد پچیس تاریخ کو یہ لوگ ٹیکسی لے کر جے پور گئے۔ ان افراد کے مطابق جے پورمیں ان کے ہوٹل میں تفتیشی ایجنسی سی آئی ڈی کا ایک اہلکار ان کے پاس آیا اور ان افراد کو فوراً رجسٹری آفس یعنی ( ایف آر آر او) لے گیا۔

وہاں ان افراد کو چھ گھنٹے تک روکا گیا اور چھ گھنٹے بعد کہا وہ غلطی سے یہاں آگئے ہیں۔

پاکستانی طلباء کے مطابق سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے ان سے کہا کہ وہ واپس دلی جائیں اور وہاں پہلے تھانے میں حاضری لگا کر پھر جے پور آئیں۔

اس کے بعد یہ پانچوں افراد ٹیکسی لے کر دلی آئے اور دلی کے آصف علی روڈ پر واقع اس دفتر گئے جہاں پاکستانی شہریوں کو آنے اور جانے کے وقت اپنی حاضری لگانی ہوتی ہے۔

یہاں موجود ایک اہلکار نے ان سے کہا کہ جے پور سے دلی آنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور وہ آرام سے جے پور جاسکتے ہیں۔

لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اس کے بعد چھبیس تاریخ کو یہ افراد واپس جے پور گئے۔ جے پور پہنچنے کے بعد پھر سی آئی ڈی اہلکار ان کے پاس آیا اور واپس ایف آر ار او کے دفتر لے گیا۔ وہاں جاکر پھر سے پوری کاغذی کارروائی ہوئی۔

آخرکار یہ افراد ستائیس تاریخ کو بلاخر جے پور ادبی میلے میں شرکت کرنے پہنچے۔

واضح رہے کہ جے پور ادبی میلہ چوبیس تاریخ کو شروع ہوا تھا اور اٹھائیس تاریخ کو ختم ہوا ہے۔

جے پور میلے میں ایک سیشن میں علی جعفری نے یہ ساری کہانی بیان کی جس کے بعد سب کو اس بارے میں معلوم ہوا۔

علی جعفری کا کہنا تھا کہ انہیں نفسیاتی طور پر پریشان کیا گیا اور جے پور سے دلی اور دلی سے جے پور کے چکر لگانے میں ان کے سارے پیسے ختم ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارا وقت اور پیسے برباد ہوئے ہیں۔ جب دونوں ممالک کے درمیان امن اور بہتر تعلقات کی بات کی جاتی تب یہ سب کیسے ممکن ہے‘۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے اس بارے میں جب پولیس کا ردعمل معلوم کرنا چاہا تو جے پور کے ڈی سی پی ساؤتھ زون اے جوش نے یہ کہ کر اپنا دامن بچا لیا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایل او سی پر فوجیوں کی ہلاکت کے بعد حالت کشیدہ ہوگئے تھے جس کے بعد نہ صرف دلی میں واقع پاکستانی ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کو جے پور ادبی میلے میں شرکت کی درخواست مسترد کردی گئی بلکہ وہاں سے آنے والے دیگر مہمانوں کے ساتھ بھی سلوک دوستانہ نہیں تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔