کشمیر: راجوری میں دھماکہ، دو بچے ہلاک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جنوری 2013 ,‭ 14:36 GMT 19:36 PST

راجوری میں بھارتی فوج کی سولہویں کور کے علاوہ فوج کی ’وائٹ نائٹ کور‘ بھی تعینات ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع راجوری میں ایک دھماکے میں دو کم سن بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔

راجوری کے اعلیٰ پولیس افسر مبشر لطیفی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تھنہ منڈی سے چھ کلومیٹر دُور درّہ گاؤں میں دو بچوں کو راستے میں پڑا دھماکہ خیز مواد ملا۔ بچے اس کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ وہ پھٹ گیا۔‘

تاہم مقامی آبادی نے ان ہلاکتوں کا الزام بھارتی فوج پر عائد کیا ہے اور بچوں کی لاشوں کے ساتھ ضلعی ہیڈکواٹر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

راجوری کے رہائشی طارق شال کا کہنا ہے کہ مظاہرین کا الزام ہے کہ درّہ کے قریب واقع فوجی کیمپ کی ایک سکیورٹی پوسٹ میں موجود فوجیوں نے بچوں کو بم کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے فوج کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

طارق شال نے مزید بتایا کہ بم دھماکے کے کئی گھنٹوں بعد لوگوں کو بچوں کی لاشوں کا علم ہوا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ درّہ گاؤں میں دور دور مکانات ہیں اور بہت کم آبادی ہے۔

راجوری میں بھارتی فوج کی سولہویں کور کے علاوہ فوج کی ’وائٹ نائٹ کور‘ بھی تعینات ہے۔ پونچھ اور راجوری میں حالیہ دنوں ایسی گمنام قبریں ملی ہیں جن میں اڑھائی ہزار افراد دفن ہیں۔

راجوری لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے۔ ضلع کے اکثر دیہات اس عبوری سرحد کے بالکل ساتھ ساتھ واقع ہیں اور اس علاقے میں برسوں پہلے بچھائی گئیں بارودی سرنگیں بھی اکثر حادثات کا سبب بنتی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔