فوجیوں کے سر قلم کرنے کا الزام بےبنیاد ہے:بھارت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 10:09 GMT 15:09 PST

کشمیر کو منقسم کرنے والی لائن آ‌ف کنٹرول پر حالات اب بھی کشیدہ ہیں

بھارت کا کہنا ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر اس کی فوج کی جانب سے پاکستانی فوجیوں کے سر قلم نہیں کیےگئے اور اس کے خلاف اس طرح کے دعوے بے بنیاد ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق پاکستان کی فوج نے ایل او سی پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کےگروپ سے اس طرح کی شکایت کی ہے۔

شکایت میں کہا گيا تھا کہ گذشتہ 15 برسوں میں بھارتی فوجیوں نے اس کے متعدد فوجیوں کے سرقلم کیے ہیں جس کی تفتیش ہونی چاہیے۔

دارالحکومت دلی میں نامہ نگاروں سے بات چيت کے دوران ایک سوال کے جواب میں بھارتی وزیر دفاع اے کے انٹونی نے کہا کہ یہ ’پوری طرح سے بے بنیاد ہے۔‘

اینٹنی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن کی آپسی بات چيت کے بعد ’ایل او سی پر کشیدگي میں کچھ کمی آئی ہے لیکن پھر بھی ہم لاپروائی نہیں برت سکتے اور چوبیس گھنٹے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسی لیے کسی بھی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم تمام احتیاطی تدابیر کر رہے ہیں اور ہماری وزارت نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پاکستان سے حالات کو معمول پر لانے میں جلد بازی سے کام نہ لیا جائے۔‘

"ایل او سی پر کشیدگي میں کچھ کمی آئی ہے لیکن پھر بھی ہم لاپروائی نہیں برت سکتے اور چوبیس گھنٹے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ "

اس ماہ کے اوائل میں لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے فوجیوں کے ہلاکت کے واقعے کی پاکستان نے اقوامِ متحدہ سے تفتیش کی پیش کش کی تھی جسے بھارت نے مسترد کر دیا تھا۔

لیکن پاکستان نے اس کی تفتیش یو این سے کرانے کا فیصلہ کیا۔ بھارت کا کہنا ہے اس معاملے میں اقوامِ متحدہ کی مداخلت کی کوئي ضرورت نہیں ہے۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل جے دہیا نے ایک بیان میں کہا ’1972 میں شملہ معاہدے کے بعد اس مسئلے میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین سے رابطہ خود متنازع ہے۔‘

بھارت کا دعویٰ ہے کہ آٹھ جنوری کو لائن آف کنٹرول پر اس کے دو فوجیوں کو پاکستانی فوجیوں نے ہلاک کر دیا تھا اور ان میں سے ایک کا سر قلم کردیا گیا تھا۔

اس وقت سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگي بڑھ گئی ہے۔ چند روز قبل بھی بھارتی وزیر اعظم نے ایک سخت پیغام میں کہا تھا کہ اس واقعے کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہ سکتے۔

اس الزام کے بعد پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کچھ نہیں چھپا رہا اور اسی لیے چاہتا ہے کہ آزادانہ تحقیقات ہوں اور یہی پیشکش ہم نے بھارت کو بھی کی ہے تاہم بھارت نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔