آشیش نندی کی گرفتاری کے خلاف حکمِ امتناع

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 11:30 GMT 16:30 PST
آشیش نندی

آشیش نندی کا شمار بھارت کے معروف دانشوروں میں ہوتا ہے

بھارتی سپریم کورٹ نے معروف دانشور اور سماجی علوم کے ماہر آشیش نندی کی گرفتاری پر حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔

ان کے خلاف جے پور کے ادبی میلے کے دوران متنازع بیان دینے پر مقدمہ درج کیا گيا تھا۔

سپریم کورٹ نے آشیش نندی کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ انہیں عوامی سطح پر متنازع تبصروں سےگریز کرنا چاہیے۔

چھہتر سالہ آشیش نندی بھارت میں سماجی علوم کے جانے پہچانے ماہر ہیں جنہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں اور ان کا زیادہ تر کام بھارت کے پسماندہ طبقے سے متعلق ہے۔

جے پور کے ادبی فیسٹیول میں ایک بحث کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت ملک میں جاری کرپشن میں ’شیڈول کاسٹس‘ سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد ملوث ہیں۔

میلے کے دوران آشیش نندی نے بدعنوانی اور دلتوں پر اپنے بیان کو کچھ اس طریقے سے پیش کیا تھا کہ کچھ لوگوں کو لگا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ کرپشن کے معاملات میں سب سے زیادہ دلت ہی شامل ہوتے ہیں۔

تاہم آشیش نندی کا کہنا ہے کہ ان کی بات کو صحیح طریقے سے سمجھا نہیں گيا اور ان کی تقریر کے چند جملے بغیر سیاق و سباق کے پیش کر دیےگئے۔

"یہ فلم جو کچھ افغانستان میں ہو رہا ہے اس کے بارے میں ہے، اس کا ہندوستان سے تعلق نہیں، اس لیے میں مسلم بھائیوں سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اسے کے تعلق سے مشتعل نہ ہوں۔"

ان کے اسی بیان پر تنازع پیدا ہوا تھا اور ان کے خلاف شیڈول کاسٹس سے متعلق قانون کے تحت جے پور کی پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے انہیں جے پور طلب کیا تھا اور امکان تھا کہ انہیں اس معاملے میں گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے اسی گرفتاری سے بچنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ آشیش نندی نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ اس کے لیے وہ عدالت اور اپنے قانونی مشیروں کے شکرگزار ہیں۔

جب ان سے عدالت کی جانب سے انہیں دیےگئے مشورہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’میں احتیاط سے بات کروں گا اور جو بھی کہنا ہوگا وہ ہندوستان سے باہر اور گھر کے اندر کہوںب گا۔‘

انہوں نے اس معاملے پر مزید کچھ کہنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ معاملہ عدالت کے زیر غور ہے اس لیے وہ اس پر کچھ نہیں کہیں گے۔

جب نندی سے کمل ہاسن اور فلم وشو روپم پر جاری تنازع کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا ’یہ فلم جو کچھ افغانستان میں ہو رہا ہے اس کے بارے میں ہے، اس کا ہندوستان سے تعلق نہیں، اس لیے میں مسلم بھائیوں سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اسے کے تعلق سے مشتعل نہ ہوں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔