کشمیر: لڑکیوں کا راک بینڈ خاموش

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 12:37 GMT 17:37 PST
کشمیر راک بینڈ

کشمیر میں موسیقی کے چلن میں گزشتہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے اور کئی راک بینڈ گروپس سامنے آئے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں لڑکیوں کے ایک راک بینڈ کو لے کر سماجی حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تنقید، دھکمیوں اور سرکاری مفتی کی طرف سے فتوے کے بعد پراگاش نامی اس بینڈ نے اپنی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔

کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ ان سینکڑوں کشمیریوں میں شامل ہیں جنہوں نے اس بینڈ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس کے بعد علیٰحدگی پسندوں نے ان کی حمایت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر میں ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد کو حکومتی حلقے میں علیٰحدگی پسندوں کی شکست اور امن کی واپسی قرار دیا جا رہا ہے۔

بہر حال کشمیر میں ایسی سرگرمیوں کو لے کر سماجی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ چوبیس سالہ شورش کے دوران یہ پہلا موقعہ ہے کہ لڑکیوں نے ایک موزیکل بینڈ قائم کیا ہو۔

دسویں جماعت میں زیرتعلیم تین کشمیری لڑکیوں نے چند ماہ قبل جو راک بینڈ قائم کیا تھا، اس پر سیاسی اور سماجی حلقے دو خانوں میں بٹ گئے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دھمکیوں اور شدید تنقید کے بعد ’پراگاش‘ یعنی روشنی کی پہلی کرن نامی اس بینڈ نے سرگرمیاں معطل کردیں، لیکن وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے دھمکی دینے والوں کو گرفتار کرنے کا وعدہ کرکے ’پرگاش‘ کی حمایت کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ اس کے بعد فیس بک اور ٹوٹر پر سینکڑوں لوگوں نے اس بینڈ کی حمایت یا مخالفت کی ہے۔

عمر عبداللہ

عمر عبداللہ نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعے بینڈ کی حمایت کی ہے

دریں اثنا علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے اس معاملے میں عمرعبداللہ کے مؤقف کی مخالفت کی ہے۔ ترجمان ایاز اکبر نے ایک بیان میں کہا کہ گو ان کی تنظیم اظہار رائے کی آزادی کے حق میں ہے، لیکن لڑکیوں کو مغربی اقدار کی اندھادھند تقلید سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

حکومت کے حمایت یافتہ مفتی اعظم بشیرالدین نے بھی ایک فتوی جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے موسیقی کو حرام قرار دیا ہے اور ان لڑکیوں سے کہا ہے کہ وہ کنسرٹس میں حصہ نہ لیں۔

قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال بھارتی فوج نے موسیقی کے ایک مقابلے کا انعقاد کیا تھا جس میں ’پراگاش‘ بینڈ نے پہلی بار اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔

پچھلے چند سال کے دوران کشمیری نوجوانوں میں موسیقی کا رجحان بڑھا ہے۔ دو ہزار دس میں سرکاری فورسز کی فائرنگ میں درجنوں نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد ریپ موسیقی کا چلن عام ہوا اور فوجی زیادیتوں کے خلاف کئی ریپرز نے نغمے لکھے۔

’بلڈ راکس‘ نامی بینڈ بھی کافی مقبول ہے۔ اس نے دو ہزار نو میں آزادی نام سے ایک گانا تخلیق کرکے خوب داد حاصل کی۔

سرینگر کی رہنے والی تینوں لڑکیوں، نوما نذیر، انیکا خالد اور فرح دیبا فی الحال کشمیر سے باہر ہیں اور ان کے والدین ان کے انٹرویو کی اجازت نہیں دیتے۔ دریں اثنا ان لڑکیوں کی بعض سہیلیوں نے بتایا کہ فتوے اور بیان بازیوں کے بعد تینوں نے موسیقی ترک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔