بھارتی بچوں کا جنسی استحصال: سیتا کی کہانی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 15:30 GMT 20:30 PST

بچوں نے کہا کہ انہیں پولیس اور دوسرے اجنبیوں کے ساتھ زبردستی سیکس کرنے اور بعد میں اسقاطِ حمل کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا

انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی حکومت ہزاروں بچوں کے جنسی استحصال کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

انہی بچوں میں بارہ سالہ سیتا (فرضی نام) بھی شامل ہیں جو ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں اور اُن کے والدین غربت کی وجہ سے اُن کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے جنہوں نے انہیں ہریانہ میں قائم ڈرون فاؤنڈیشن کے زیر انتظام ایک پناہ گاہ میں چھوڑ دیا تھا۔

لیکن سیتا کا کہنا ہے کہ وہاں پناہ گاہ چلانے والی خاتون کے بیٹے نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔خاتون کے اِن بیٹے کی عمر 42 سال تھی اور وہ ایڈز کے مریض تھے جن سے ایڈز سیتا کو منتقل ہوئی۔

پناہ گاہ چھوڑنے کے بعد سیتا نے نفسیاتی معالج کو بتایا کہ’وہ نشہ کی حالت میں آتا تھا اور مجھے دوسرے کمرے میں لے جا کر کہتا کہ اگر میں نے کسی کو بتایا تو وہ میراگلا گھونٹ دے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جب دوسروں کو اس جنسی زیادتی کے بارے میں بتاتی تھی تو وہ انہیں تھپڑ مارتے تھے۔

جنوری 2012 میں ڈرون فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار نے چائلڈ لائن نامی مصیبت زدہ بچوں کی مدد کے لیے مدگار فون کی سہولت پر ٹیلی فون کیا، جس کے بعد چند گھنٹوں کے اندر اندر پولیس نے اس پناہ گاہ پر چھاپہ مارا اور بچوں کو بچا لیا۔

"وہ نشہ کی حالت میں آتا تھا اور مجھے دوسرے کمرے میں لے جا کر کہتا کہ اگر میں نے کسی کو بتایا تو وہ میراگلا گھونٹ دے گا"

سیتا

ڈرون فاؤنڈیشن کی خاتون مینیجر اور ان کے بیٹے پر مقدمہ چل رہا ہے لیکن وہ ان تمام الزامات کو رد کرتے ہیں۔

سیتا کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ہریانہ ریاست کی رفاعی کمیٹی نے انہیں ایک مقامی قابلِ احترام خیراتی ادارے کے تحت چلنے والی رہائش گاہ ’اپنا گھر‘ میں بھیج دیا۔

لیکن سیتا کے وہاں پر تین مہینے تک رہنے کے بعد تین دوسرے بچے وہاں سے فرار ہو کر دلی چلے گئے اور انہوں نے شدید استحصال کے بارے میں اطلاع دی۔

تحقیقات کرنے والوں کو بتایا گیا کہ سیتا سے زبردستی صفائی کا کام لیا جاتا تھا جب کہ جو بچے زیادہ عرصے سے وہاں پر رہ رہے تھے انہیں ادارے کے مالک اور ملازمین نے شدید جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

ایک لڑکی نے بتایا، ’وہ کچھ بچوں کو ننگا کرکے پیٹتی تھی۔ بعض کو پنکھوں سے لٹکایا جاتا۔ دوسرے بچوں کو چارپائی یا کھڑکی کے ساتھ باندھا جاتا تھا۔‘

بعض نے کہا کہ انہیں پولیس اور دوسرے اجنبیوں کے ساتھ زبردستی سیکس کرنے اور بعد میں اسقاطِ حمل پر مجبور کیا جاتا تھا۔

چھاپے کے بعد اس مرکز کو بند کردیا گیا لیکن بچوں کی تحفظ کے لیے قائم قومی کمیشن کے معانہ کاروں کا کہنا تھا کہ ہریانہ کی ریاستی حکومت کو ان جنسی زیادتیوں کا پہلے سے پتا لگانا چاہیے تھا۔

نو ملزمان اور اُن پولیس اہلکار پر اب مقدمہ چلایا جائے گا جو ابتدائی تحقیقات کے زمہ دار تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔