مفتی اعظم کشمیر کے خلاف مقدمے کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 15:08 GMT 20:08 PST
کشمیری بینڈ

کشمیری بینڈ کو غیر اسلامی قرار دیا گیا ہے

کشمیری لڑکیوں کے راک بینڈ پر فتویٰ دینے والے کشمیر کے مفتی اعظم بشیرالدین کے خلاف انسانی حقوق کے مقامی اداروں نے عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر کے مفتی اعظم بشیرالدین نے کشمیری لڑکیوں کے راک بینڈ پراگاش کو غیراسلامی قرار دیا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کولیشن آف سول سوسائٹیز کے سربراہ پرویز امروز نے مفتی اعظم کو سرکاری ایجنسی کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مفتی اعظم لوگوں پر کیے جا نے والے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے غیر ضروری معاملات پر فتویٰ بازی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کشمیری سماج موسیقی، شاعری یا دوسرے فنون کو صدیوں سے پسند کرتا رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت فنی مظاہروں کو امن کی سیاست سے جوڑ کر معاملات کو خود پیچیدہ بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ لوگ حکومت کا ایجنڈا چلاتے ہیں۔ لوگوں نے یا مذہبی اداروں نے مفتی بشیر کو منتخب نہیں کیا۔ وہ خودساختہ ہیں۔ جب ہم نے چھ ہزار گمنام قبروں کی نشاندہی کی یا قتل عام میں ملوث پانچ سو پولیس اور فوجی افسران کے نام ظاہر کیے اُس وقت مفتی صاحب کہاں تھے؟‘

پرویز امروز نے کہا کہ وہ عدالت میں مفتی اعظم کی قانونی حیثیت پر سوال اُٹھائیں گے۔ ’انہیں لوگوں کے معاملات ہر ہنگامہ آرائی کروانے کا کوئی حق نہیں۔‘

"یہ لوگ حکومت کا ایجنڈا چلاتے ہیں۔ لوگوں نے یا مذہبی اداروں نے مفتی بشیر کو منتخب نہیں کیا۔ وہ خودساختہ ہیں۔ جب ہم نے چھ ہزار گمنام قبروں کی نشاندہی کی یا قتل عام میں ملوث پانچ سو پولیس و فوجی افسران کے نام ظاہر کیے اُس وقت مفتی صاحب کہاں تھے؟"

کولیشن آف سول سوسائٹیز

دریں اثنا بدھ کی رات مختلف مقامات پر چھاپوں کے دوران پولیس نے تین نوجوانوں کو گرفتار کیا۔

سرینگر کے بٹہ مالو علاقہ سے گرفتار کیے گئے نوجوان ارشاد احمد کے لواحقین نے اس گرفتاری پر احتجاج کیا ہے۔ ارشاد کی والدہ حمیدہ بیگم نے بتایا کہ ’مولویوں اور مفتیوں کے بیانات کے بعد حکومت نے گرفتاریاں شروع کیں، آج وہ مفتی اور مولوی کہاں ہیں۔‘

ارشاد کے بھارئی خورشید نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ عمر عبد اللہ خود اظہارِ رائے کی آزادی کی بات کرتے ہیں اور محض ایک ریمارک کے لیے نوجوانوں کو قید بھی کرتے ہیں۔ ’میرے بھائی نے تلوار نہیں اُٹھائی، محض ایک فقرہ لکھا تھا۔‘

واضح رہے کہ چند ماہ قبل سرینگر میں دسویں جماعت کی تین طالبات نوما نذیر، انیکا خالد اور فرح دیبا نے ’پرگاش‘ نامی ایک راک بینڈ شروع کیا تھا۔

بھارت کے نیم فوجی ادارے سی آر پی ایف نے سرینگر میں موسیقی کے مقابلے کا اہتمام کیا تو پراگاش کو خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ کنسرٹ کے بعد فیس بک پر بعض نوجوانوں نے لڑکیوں کے خلاف دھمکی آمیز پوسٹ شائع کیے۔

یہ پہلا موقعہ ہے کہ حکومت کے حمایت یافتہ مذہبی رہنما کے خلاف انسانی حقوق کے اداروں نے عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پرویز امروز کہتے ہیں ’کبھی وہ عیسائی پادریوں کو طلب کرتے ہیں اور کبھی امریکیوں کو کشمیر چھوڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ وہ ایک متوازی عدالتی نظام چلاتے ہیں، ایسا کوئی عام آدمی کرے گا تو اسے جیل بھیج دیا جائے گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔