بھارت:سوائن فلو سے ایک ماہ میں 94 ہلاکتیں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 06:17 GMT 11:17 PST

جون 2009 میں عالمی ادارۂ صحت نے سوائن فلو کو عالمی وبا قرار دے دیا تھا

بھارت میں دو ہزار تیرہ کے پہلے مہینے میں سوائن فلو کے واقعات میں اب تک نوے سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال بھارت میں سوائن فلو سے 405 ہلاکتیں ہوئی تھیں اور اس سال یکم جنوری سے ستائیس جنوری تک بھارت میں 456 سوائن فلو کے کیس سامنے آئے اور اکیانوے افراد ہلاک ہوئے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ان اعداوشمار کے آنے کے بعد دلی میں مزید تین اموات ہوئی ہیں جس سے مرنے والوں کی تعداد کم از کم 94 ہو گئی ہے۔

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت نے اپنی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں بتایا کہ سوائن فلو سے سب سے زیادہ متاثر ریاست راجستھان ہے اور اس کے بعد پنجاب اور ہریانہ کا نمبر ہے.

راجستھان میں اس سال سوائن فلو سے 54 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ہریانہ میں 13 اور پنجاب میں نو اموات ہوئی ہیں۔

بھارت میں سوائن فلو کا زیادہ اثر 2009 اور 2010 میں دیکھا گیا تھا۔ 2010 میں اس بیماری سے 1763 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

دارالحکومت دلی میں اس بخار ایک بڑھتے اثرات کو دیکھتے ہوئے مقامی حکومت نے 22 ہسپتالوں کو اس بیماری کے علاج کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کی ہدایت دی ہیں۔

سوائن فلو ایچ 1 این 1 وائرس سے پھیلتا ہے اور یہ پہلی مرتبہ 2009 میں میکسیکو میں سامنے آیا تھا۔

جون 2009 میں عالمی ادارۂ صحت نے سوائن فلو کو عالمی وبا قرار دے دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔