بھارت میں پھانسی کا خیرمقدم، کشمیری ناراض

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 08:52 GMT 13:52 PST

بھارت میں افضل گرو کی پھانسی کا خیرمقدم کیا گیا ہے

بھارتی پارلیمان پر حملے کے مجرم افضل گورو کو پھانسی دیے جانے پر جہاں بھارت میں تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں اور اہم شخصیات نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے وہیں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہند نواز اور ہند مخالف دونوں سیاسی حلقوں میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے۔

اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسے صحیح قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورا ملک اس کا منتظر تھا۔ پارٹی کے ترجمان راجیو پرتاپ سنگھ روڈی نے کہا ’ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں، دیر آید، درست آید۔ اپوزیشن سمیت پورا ملک اس کا منتظر تھا۔‘

کانگریس پارٹی نے بھی اپنی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ پھانسی قانون کے مطابق دی گئی ہے۔ پارٹی کے سرکردہ رہنما دگ وجے سنگھ نے کہا ’دہشتگردوں کے ساتھ یہی سلوک کرنا چاہیے وہ رحم کے قابل نہیں ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’مرکزی حکومت نے دہشت گردی سے کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور کانگریس پارٹی اس سے خود متاثر ہوئی ہے۔‘

بہار کے وزیر اعلی اور جنتادل کے رہنما نتیش کمار نے بھی پھانسی کے فیصلے کو خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ کافی دنوں سے التوا میں تھا اور ’بالآخر انصاف کی جیت ہوئی۔‘

کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سیتارام یچوری نے بھی کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ پارلیمان پر حملے کے معاملے میں قانونی چارہ جوئی بالآخر اپنے انجام کو پہنچی اور ’جو بھی ہوا ٹھیک ہوا۔‘

مختلف سیاسی رہنماؤں اور سماجی شخصیات کی طرف سے جوبیانات سامنے آئے ہیں اس کے مطابق زیادہ تر لوگ حکومت کے فیصلے کو سراہ رہے ہیں۔

لیکن بعض افراد نے اس فیصلے پر نکتہ چینی بھی کی ہے۔ سپریم کورٹ کی سرکردہ وکیل کامنی جیسوال کا کہنا ہے کہ افضل گرو کی رحم کی اپیل سے متعلق ایک عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی تھی ایسے میں پھانسی دینا قانونی طور پر بھی درست نہیں ہے۔

’ان کی دو رحم کی اپیلیں تھیں جس پر پہلے سیاسی وجوہات کے سبب فیصلہ نہیں کیا گيا۔ اب چونکہ کئي الیکشن آنے والے ہیں اور جب کچھ ایسا ہوتا ہے تو بی جے پی افضل گرو کی پھانسی کا معاملہ اٹھاتی ہے۔ چونکہ حکومت بی جے پی سے یہ ایشو بھی چھیننا چاہتی تھی اس لیے اس نے ایسا کیا ہے۔ یہ صرف اور صرف سیاسی فائدے کے لیے کیا گیا ہے۔‘

"چونکہ حکومت بی جے پی سے یہ اشو بھی چھیننا چاہتی تھی اس لیے اس نے ایسا کیا ہے۔ یہ صرف اور صرف سیاسی فائدے کے لیے کیا گیا ہے۔"

سپریم کورٹ کی سرکردہ وکیل کامنی جیسوال

دلی یونیورسٹی کے پرفیسر عبد الرحمان گیلانی نے بھی اس پر سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف صرف واقعاتی ثبوت تھے اور ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔

کشمیر میں شدید ردِعمل

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں افضل گورو کی پھانسی کے بعد ہندنواز اور ہندمخالف دونوں سیاسی حلقوں میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے۔

حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس کے رہنما شیخ مصطفیٰ کمال نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افضل گورو کو پھانسی دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوا ہے بلکہ اب یہ خطرہ ہے کہ ہزاروں افضل گورو پیدا ہوسکتے ہیں۔‘

تاہم ان کے بھتیجے اور کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو زیادہ نہ اُچھالیں۔

کشمیر اسمبلی کے رکن انجنیئر عبدالرشید نے اس پھانسی کے خلاف شمالی کشمیر کے لنگیٹ علاقہ سے ایک جلوس نکالا اور سوپور کی طرف مارچ کیا جس پر انہیں درجنوں ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا ’بھارت ہمیشہ اپنے لیے خود مسائل پیدا کرتا ہے۔ کشمیریوں کا دل جیتنے کے معاملے میں حکومت ہند کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہی ہے۔‘

جماعت اسلامی نے حکمران جماعت نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اُنیس سو چوراسی میں بھی مقبول بٹ کی پھانسی کے فیصلہ میں کانگریس حکومت کا ساتھ دیا تھا۔

ترجمان زاہد علی نے ایک بیان میں کہا: ’عمرعبداللہ کی حکومت کو پنجاب کی حکومت سے سبق لینا چاہئے۔ بینت سنگھ قتل کیس میں ایک ملزم کی پھانسی کا فیصلہ حکومت ہند کو واپس لینا پڑا۔‘

شمالی قصبے پٹن میں بھی علیٰحدگی پسند کارکنوں نے ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس سے اسلامی تنظیم آزادی کے سربراہ عبدالصمد انقلابی نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا: ’ کشمیریوں کو پھانسی دینے سے تحریک آزادی نہیں دب سکتی۔‘

عسکری گروپ العمر مجاہدین کے سپریم کمانڈر مشتاق احمد زرگر نے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’اگر لاکھوں کشمیریوں کو بھی پھانسی دی جائے تو بھی ہم مسئلہ کشمیر کو حل کروا کے چھوڑیں گے۔ اس کا حل صرف مسلح جدوجہد ہے۔‘ انہوں نے تین دن تک ہڑتال کی اپیل بھی کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔