افضل گورو: میڈیکل کالج سے عسکریت پسندی تک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 06:57 GMT 11:57 PST
افضل گورو

پچاس سالہ افضل شمالی قصبہ سوپور میں

13 دسمبر 2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر ہونے والے فدائی حملے کے لیے سزائے موت پانے والے محمد افضل گورو کی زندگی علم، فن اور مزاحمت سے عبارت تھی۔

تینتالیس سالہ افضل گورو شمالی قصبہ سوپور کے ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو سوپور سے چھ کلومیٹر دور جاگیر دوآبگاہ گاؤں میں دریائے جہلم کے کنارے آباد ہے۔ افضل کے ہم جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ سکول کی تقریبات میں بہت سرگرم رہتے تھے۔ انھوں نے مقامی سکول سے 1986 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

تشدد پر تعلیم کو ترجیح

ہائر سیکنڈری کے لیے جب انہوں نے سوپور کے مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ میں داخلہ لیا تو وہاں ان کی ملاقات نوید حکیم سے ہوئی جو پُرامن ہند مخالف سرگرمیوں میں پیش پیش تھے لیکن افضل نے پڑھائی کو ترجیح دی اور بارہویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا۔ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور اپنے والد کا خواب پورا کرنے میں جُٹ گئے۔

جب کشمیر میں 1990 کے آس پاس مسلح شورش شروع ہوئی تو افضل ایم بی بی ایس کے تھرڈ ایئر میں تھے۔ تب تک ان کے دوست نوید حکیم عرف انجم عسکریت کو اپنا چکے تھے۔

بندوق کا انتخاب

افضل گورو

ان کی شادی بارہ مولہ کی تبسّم سے ہوئی

اسی دوران سری نگر کے نواحی علاقے چھانہ پورہ میں انڈین فورسز نے کریک ڈاؤن کے دوران متعدد خواتین کے مبینہ ریپ کا واقعہ ہوا تو افضل کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے انہیں شدید دھچکا پہنچایا، چنانچہ انہوں نے نوید کے ساتھ رابطہ کیا اور ہند مخالف جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کر لی۔

کنٹرول لائن کے پار مظفرآباد میں ہتھیاروں کی تربیت کے بعد واپس لوٹے تو تنطیم کے عسکری حکمت عملی کے سربراہ بن گئے۔

ایسے ہی ایک جنگجو فاروق احمد عرف کیپٹن تجمل نے (جو عسکریت کو خیرباد کہہ چکے ہیں) بی بی سی کو بتایا کہ افضل خون خرابے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ پُرانی یادیں دہراتے ہوئے فاروق کا کہنا ہے ’جب کشمیر میں لبریشن فرنٹ اور حزب المجاہدین کے درمیان تصادم شروع ہوئے تو افضل نے تین سو مسلح لڑکوں کا اجلاس سوپور میں طلب کیا اور اعلان کیا کہ ہم اس تصادم میں شامل نہیں ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام علاقوں میں اس خانہ جنگی کی وجہ سے سینکڑوں مجاہدین مارے گئے لیکن ہمارا علاقہ پُرامن رہا۔‘

عسکریت سے واپسی

افضل گورو

افضل کو موسیقی سے لگاؤ رہا ہے

افضل کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس خانہ جنگی پر بہت پریشان تھے اور عسکریت پسندی سے ان کا جی بھر گیا تھا۔ 1991 کے اواخر میں جب انہوں نے ہتھیار ڈال دیے تو آرمی کی پندرہ پنجاب رجمنٹ کے ایک کمانڈنگ افسر نے انہیں پڑھائی مکمل کرنے کا مشورہ دیا۔

اپنے چچیرے بھائی شوکت گورو (پارلیمنٹ حملے کے ایک اور ملزم) کی مدد سے انہوں نے دلی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور گریجویشن کے بعد اکنامکس میں ڈگری حاصل کر لی۔ شوکت کے چھوٹے بھائی یٰسین گورو کا کہنا ہے کہ افضل دلی میں اپنا اور اپنی پڑھائی کا خرچ ٹیوشن کر کے چلاتے تھے۔ ڈگری کے بعد تھوڑے عرصے کے لیئے شوکت اور افضل دونوں نے بینک آف امریکہ میں نوکری کی۔

پُرامن زندگی کا آغاز

افضل گورو

افضل گورو، درمیان میں

بالآخر افضل دلی میں سات سالہ قیام کے بعد 1998 میں اپنے گھر کشمیر لوٹے۔ یہاں ان کی شادی بارہ مولہ کی تبسّم کے ساتھ ہوئی۔ تبسم کہتی ہیں کہ وہ افضل کے ماضی سے واقف تھیں لیکن افضل کی موسیقی میں دلچسپی سے انہوں نے اخذ کیا کہ افضل کا عسکریت پسند بننا حادثاتی تھا۔ ان کا کہنا ہے ’غالب کی شاعری ان کے سر پر سوار تھی۔ یہاں تک کہ ہمارے بیٹے کا نام بھی غالب رکھا گیا۔وہ مائیکل جیکسن کی موسیقی بھی شوق سے سنتے تھے۔‘

اس دور میں افضل نے دلی کی ایک دواساز کمپنی میں ایریا سیلز منیجر کی نوکری کر لی اور ساتھ ساتھ خود بھی دوائیوں کا کاروبار کرنے لگے۔ افضل کے دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ دور افضل کے لیے واپسی کا دور تھا۔

امن کی راہ میں رکاوٹیں

خون خرابہ پسند نہیں

"افضل خون خرابے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ جب کشمیر میں لبریشن فرنٹ اور حزب المجاہدین کے درمیان تصادم شروع ہوئے تو افضل صاحب نے تین سو مسلح لڑکوں کا اجلاس سوپور میں طلب کیا اور اعلان کیا کہ ہم اس تصادم میں شامل نہیں ہوں گے۔ "

افضل کے بچپن کے ساتھی ماسٹر فیاض کا کہنا ہے کہ مقامی آرمی کیمپ پر ہر روز حاضر ہونے کی پابندی اور پولیس ٹاسک فورس کی زیادتیوں نے افضل کی سوچ میں آنے والی تبدیلی کو واپس موڑ دیا۔

فیاض کہتے ہیں ’انڈین آرمی نے ہماری اس بستی پر فولادی گیٹ نصب کیے ہوئے ہیں۔ آتے جاتے پوچھ تاچھ اور سودا سلف لانے کے لیے تلاشی سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔ یہ گیٹ شام کو غروب آفتاب کے بعد بند ہوجاتا ہے اور صبح سات بجے کھلتا ہے۔ اسی کیمپ میں افضل کو حاضری کے لیے جانا پڑتا تھا۔ وہاں ان لڑکوں کی تذلیل ہوتی تھی۔ ان سے بیگار لیا جاتا تھا۔‘

افضل کی بھابی بیگم اعجاز کا کہنا ہے کہ 2000 میں ٹاسک فورس نے افضل کوگرفتار کر لیا اور جان لیوا اذیتوں سے گزارا۔ ٹاسک فورس کیمپ میں افضل کے ساتھ ایک ملاقات کو یاد کرتے ہوئے بیگم اعجاز کہتی ہیں ’جب ہم اسے ملے تو وہ نیم مردہ تھا۔ میں نے اپنے بچے کو اس کے آگے کیا کہ وہ اسے گود میں لے لے، تو وہ افضل کی بانہوں سے پھسل کرگرگیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس کی ساری انگلیاں سوجن سے ٹیڑھی ہو چکی تھیں۔ وہ بچے کو نہیں تھام سکا۔‘

افضل نے ٹاسک فورس کی زیادتیوں کے بارے میں اپنی بیوی تبسّم سے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’ اس نے کہا کہ ایک دفعہ مجھے مارنے کے لیے دور کسی جگہ لے گئے۔ ایک کشمیری پولیس افسر نے اپنی پستول میری کنپٹی پر رکھ دی اور رُک گیا۔ اتنے میں اسے فون آیا کہ مارتے کیوں نہیں، اس نے جواب دیا کہ مجھےاس کی تعلیم کا پاس ہے۔ بعد میں اسے اس افسر نے اس شرط پر چھوڑ دیا کہ کشمیر سے باہر نہیں جائے گا لیکن زیرحراست تشدد نے اس کے خیالات کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی۔‘

بعدازاں افضل نے سوپور میں رہنا چھوڑ دیا اور زیادہ تر دلی اور سری نگر میں رہنے لگے۔ ہلال گورو کا کہنا ہے کہ جب تیرہ دسمبر کو انڈین پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو وہ افضل کے ساتھ دلی میں موجود تھے۔

ہلال کا کہنا ہے کہ وہ افضل کے ہمراہ دوائیں لے کر ٹرک میں پندرہ دسمبر کو کشمیر پہنچے اور سوپور جاتے ہوئے علی الصباح پولیس نے ٹرک کو گھیرے میں لے کر شوکت اور افضل کو گرفتار کر لیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے مذموم عمل میں ان کی اعانت کے لیے محمد افضل نے وہ سب کچھ کیا جو وہ ممکنہ طور پر کر سکتے تھے۔

عدالت کے مطابق ’اس بات کی قطعی شہادت موجود ہے کہ محمد افضل سازش کا ایک حصہ تھے اور ان کا مرنے والے دہشت گرد سے تعلق تھا۔‘

محمد افضل دوسرے کشمیری ہیں جنھیں علیٰحدگی پسند سرگرمیوں کے باعث تختۂ دار پر لٹکایا گیا ہے۔

1984 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بھٹ کو انڈیا کی انٹیلی جنس کے ایک افسر کو قتل کرنے کے جرم پر سزائے موت دی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔