’حالات نے غلط سمت میں دھکیلا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 09:30 GMT 14:30 PST
افضل گورو

افضل گورو کو پھانسی

ہندوستان کی پارلیمان پر حملے کے مجرم محمد افضل گورو کو نو فروری دو ہزار تیرہ میں دلی کی تہاڑ جیل میں صبح آٹھ بجے پھانسی دے دی گئی۔ اس سے قبل بیس اکتوبر دو ہزار چھ میں دلی کی تہاڑ جیل میں افضل کو پھانسی دی جانی تھی لیکن ان کی بیگم تبسم کی جانب سے رحم کی اپیل کے بعد معاملہ التوا میں چلا گیا تھا۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے ان کے اہل خانہ سے بات کی اور ان کے کچھ دوستوں سے بھی رابطہ کیا اور ان کی شخصیت کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔

بیگم حبیب: گورو کی والدہ

افضل گورو کی والدہ

بیگم حبیب، افضل گورو کی والدہ

افضل پیدا ہوا تو بہت کمزور تھا۔اس کی ٹانگوں میں قوّت نہیں تھی۔ گیارہ ماہ کا تھا تو میں اسے بارہ مولہ کے سینٹ جوزف ہسپتال میں ’ٍمِسوں‘ ( نرسز) کے پاس چھوڑ آئی۔ سال بھر وہاں رہا، خوب اچھا ہوا۔ بڑے ہو کر میں نے اسے یہ بتایا تو وہ عیسائی مشنری سے خُوب متاثر ہوا۔ لڑکپن میں نہایت شفیق تھا۔ میرے صرف چار بیٹے تھے اور کوئی لڑکی نہیں تھی۔ افضل سکول سے آتا تو میرے کام میں ہاتھ بٹاتا تھا۔ یہاں تک کہ اچھا باورچی ہوگیا۔

سکول کے دنوں میں صرف گانا بجانا اس کا شوق تھا۔ کھیل کود سے زیادہ گانے بجانے میں دلچسپی لیتا تھا۔ والد تو اُس وقت چھوڑ کر چلے گئے جب افضل کمسنی میں تھا، لیکن وہ ہمیشہ اس کو ڈاکٹر پکارتے تھے۔

تبسّم افضل: اہلیہ

بیگم افضل

افضل گورو کی بیگم تبسم

میں حیران تھی کہ وہ مائیکل جیکسن اور جگجیت سنگھ کی موسیقی کو یکساں شدّت کے ساتھ کیسے پسند کرتا تھا۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ انقلابی ذہنیت کے لوگ شاعری میں اقبال کو چاہتے ہیں، لیکن افضل تو غالب کا دیوانہ تھا۔ میں ملاقات کے لیے جاتی تو غالب کا کوئی نہ کوئی شعر سناتے۔

ہمارا بیٹا ہوا تو انھوں نے قصد کر کے اس کا نام غالب رکھا۔ قدرتی مناظر سے انہیں بہت لگاؤ تھا۔ ویسے تو بڑے شوخ طبیعت تھے، لیکن چاند، تارے، جہلم کی روانی اور تیز ہواؤں میں چنار کے پتوں کی سرسراہٹ اُن کو اس قدر سنجیدہ بنا دیتی تھی کہ مجھے ڈر لگتا تھا۔

غالب افضل: بیٹا

افضل کا بیٹا

افضل گورو کا بیٹا غالب

بابا بولتا تھا کہ میں بڑا ہوجاؤں گا تو وہ مجھے تیرنا سکھائیں گے۔ میں ان کے ساتھ نماز پڑھتا تھا۔ مجھے انگریزی رائم یاد کرواتے تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ مجھے گانا بھی سکھائیں گے۔ میں کل ٹی وی پر بھی بولا کہ میرے بابا کو چھوڑ دو۔ وہ واپس آئیں گے تو پھر میں کبھی دلی نہیں جانے دوں گا۔

ہلال احمد گورو: بڑا بھائی

افضل گورو کا بھائی

افضل گورو کا بھائی ہلال احمد

بڑا شرمیلا تھا۔ میں اُنیس سو نوّے میں بارڈر کراس کر کے مظفرآباد گیا۔ جب میں نے سنا کہ افضل بھی ڈاکٹری کی ڈگری ادھوری چھوڑ کر وہاں عسکری تربیت کے لیے گیا ہے تو میں فکر مند ہوا۔ میں جانتا تھا کہ وہ بہت شرمیلا ہے، اسے کوئی بھی بہکا سکے گا۔ میں نے کیمپوں میں ڈھونڈا تو نہیں ملا۔ آخر کار میں نے اسے کیمپوں سے باہر ایک سلائی سینٹر میں دیکھا کہ سو رہا ہے۔ اُس نے کہا کہ کیمپ میں جگہ نہیں ملی۔میں نے پوچھا تُو کیوں آیا تو جواب میں اس نے سرینگر کے چھانہ پورہ میں انڈین فورسز کے ہاتھوں اجتماعی ریپ کا واقعہ سنایا۔

اس واقعے نے اس کو بندوق کی طرف دھکیلا تھا۔ مظفرآباد سے واپسی پر جب عسکری جماعتوں کے درمیان گروہی تصادم نے ہم سب کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تو افضل پھر سے پڑھائی میں جُٹ گیا۔ لیکن آرمی کیمپ پر مسلسل حاضری کی پابندی اور وہاں ہمارے ساتھ ہونے والے سلوک نے اس کو جنجھوڑ کے رکھ دیا۔

سچ اس بے باکی سے بولتا تھا کہ ایک دن آرمی کیمپ میں حاضری کے دوران میجر راجموہن نے اس کے ساتھ علیٰحدہ بات کی تو افضل نے ساری صورتحال کا نقشہ اس کے سامنے رکھ دیا۔ بعد میں اُس میجر نے دو ماہ کے لیے رخصت لے لی اور گاؤں کے ایک بزرگ سے یہ کہہ کر گیا کہ افضل کی باتوں سے وہ خود کو گنہگار سمجھنے لگا ہے۔

فیاض احمد: دیرینہ دوست اور بچپن کا ساتھی

فیضاض احمد

افضل گورو کا دوست فیاض

بارہویں جماعت کے بعد افضل نے یوں تو ایم بی بی ایس میں داخلہ لے لیا، لیکن وہ زیادہ دلچسپی اسلامی اور انقلابی لٹریچر میں لینے لگا تھا۔ میں بھی گورنمنٹ ٹیچر ہوں لیکن میں اسے کہتا تھا کہ ان فلسفوں میں اُلجھنا ٹھیک نہیں۔ شاید وہ اپنے انقلابی میلانات کو تسکین دینا چاہتا تھا۔ امام غزالی، ڈاکٹر علی شریعتی، سیّد قطب، مولانا مودودی جیسے مفکرین کی کتابیں اس کی زندگی کا حصہ بن گئی تھیں۔

عجیب اتفاق ہے کہ گرفتار ہونے سے پندرہ روز قبل میں نے اس کے ہاتھ میں امام غزالی کی ایک کتاب دیکھی تو میں نے مذاق میں کہہ دیا کہ ’یہی کتابیں تجھے مروا دیں گی۔‘ لیکن اس نے اپنے گاؤں کے واحد راستے پر انڈین آرمی کے اس کیمپ کا حوالہ دیا جو ہمارے لیے پندرہ برسوں سے عذاب بنا ہوا ہے۔ صبح سات بجے سے پہلے اور شام کو غروب آفتاب کے بعد آمدورفت پر پابندی عائد ہوتی ہے اور آتے جاتے وقت ہمیں فولادی رکاوٹوں سے باریک تلاشی کے بعد گزرنا پڑتا ہے۔

بیگم اعجاز گورو: افضل کی بھابی

بیگم اعجاز

افضل گورو کی بھابھی بیگم اعجاز

ہمارے خاندان میں شادی کی کوئی بھی تقریب افضل کے ناچ گانے بغیر ادھوری سمجھی جاتی تھی۔ ’تُمبک ناری‘ (مٹی اور چمڑے سے بنی روایتی کشمیری ڈھولک) پر ہمیں غالب کی غزلیں اور حبّہ خاتون ( کشمیری خاتون شاعرہ) کے نغمے نہایت پُراثر آواز میں سنایا کرتا۔ اور پھر افضل کا لوک ناچ اور ڈسکو، ہم تو حیران رہ جاتے۔ بڑا مزہ آیا اُس کی شادی پر۔ وہ اپنی شادی پر خود ناچنے لگا اور کئی گانے سنائے۔

محمد رفیق: ہم جماعت اور دوست

رفیق

افضل گورو کا دوست محمد رفیق

اپنی سخاوت کے لیے علاقے میں کافی مشہور تھا۔ کوئی آفت آتی تو پیسے اور چاول جمع کرنے میں پہل کرتا تھا۔ ایک دفعہ دلی میں اس نے ایک رکشا والے کو بارش میں بھیگتا دیکھ اسے اپنی سویٹر دے دی۔ لبریشن فرنٹ کے ساتھ وابستگی کے دوران بھی یہ رحجان باقی تھا۔ وہ تو علم اور خدمت خلق کو پسند کرتا تھا، لیکن حالات نے اسے مخالف سمت کی طرف دھکیلا۔

پاکستان سے واپس لوٹا تو شہید ڈاکٹر گورو نے اسے کہا کہ بندوق تنظیم کے حوالے کر دو، یہ تمہارے شانوں پر اچھی نہیں لگتی۔ انھوں نے افضل کو سماجی فلاح کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی تھی۔ ایسا ہی ہوا بھی۔ چند ماہ بعد ہی وہ دلی یونیوسٹی میں داخل ہوگیا اور اکنامکس کی ڈگری کے بعد دوائیوں کا کاروبار کرنے لگا۔

لیکن یہاں اسے پھرگرفتار کیا گیا اور شدید جسمانی اذیت کے بعد رہا کیا گیا۔ یہ چیزیں ذہن کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔