بھارت: مہا کمبھ میں شاہی اشنان کا آغاز

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 فروری 2013 ,‭ 23:29 GMT 04:29 PST

بھارت میں جاری مہا کمبھ میلے میں اتوار کو شاہی اشنان کا آغاز ہو گیا ہے اور آج تقریباً تین کروڑ افراد الہ آباد کے قریب دریائے گنگا اور جمنا کے سنگم پر ہندو مذہب کی روایات کے مطابق غسل کریں گے۔

مہا کمبھ میلہ ہر بارہ سال بعد منعقد ہوتا ہے اور پچپن دن جاری رہتا ہے۔ اس میلے کو روئے زمین پر انسانوں کا سب سے بڑے اجتماع کہا جاتا ہے۔

اس میں چھ دن اشنان یا غسل کے لیے مخصوص ہیں جن میں سے سب سے اہم دن اتوار کا دن ہے۔

میلے میں اشنان کے پہلے دن یعنی چودہ جنوری کو اسی لاکھ سے زیادہ افراد نے دریا میں اشنان کیا۔ شاہی اشنان دریا کے کنارے پر اٹھارہ مختلف مقامات پر لیا جا سکے گا۔

ہندو مذہب میں مانا جاتا ہے کہ ان دونوں دریاؤں کے ملاپ کے مقام پر اشنان کرنے سے پاپ دھلتے ہیں اور مُکتی یا نجات ملتی ہے۔

جنوری اور فروری کے مہینوں میں اس میلے کے دوران اشنان کرنے والوں کی تعداد دس کروڑ کے لگ بھگ ہے جو اس میلے کے پچپن دنوں میں دریاؤں کے ملاپ کے مقام پر مختلف اوقات میں اشنان کریں گے۔

الہ آباد کے قریب واقع کنبھ میلے کے مقام پر ہزاروں کی تعداد میں یاتریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے

الہ آباد کے قریب واقع کمبھ میلے کے مقام پر ہزاروں کی تعداد میں یاتریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

اتوار کے شاہی اشنان کے موقع پر حفاظت کے سخت انتظامات ہیں اور پولیس کے چودہ ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں نیم فوجی دستے اور کمانڈوز بھی شامل ہیں۔

میلے کی حفاظت کے انتظامات کے ذمہ دار پولیس کے اعلیٰ افسر آر کے ایس راٹھور کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ بیس لاکھ افراد اتوار کو شرکت کے لیے پہنچ چکے ہیں۔

راٹھور نے بتایا کہ ’ایک بڑی تعداد میں لوگ اتوار کے اشنان کے لیے رکیں گے، میں نے ایک تاریخی منظر دیکھا ہے جب میں گھوڑے پر سوار مجمعے کا جائزہ لے رہا تھا اور حد نظر تک مجھے انسانوں کا ایک سمندر ہی نظر آیا‘۔

راج کمار سنگھ نے بتایا کہ ’میں پنجاب سے تین دن بس، ٹرین اور پیدل سفر کر کے یہاں پہنچا ہوں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ شاہی اشنان والے دن اشنان کرنے سے میرے گناہ دھل جائیں گے اور میرے اور میرے خاندان کا مستقبل بہتر ہو گا‘۔

یاد رہے کہ میلے کی جگہ پر قائم چودہ ہسپتالوں میں میلے کے آغاز سے اب تک ڈیڑھ لاکھ مریضوں کو دیکھ چکے ہیں جبکہ دو یاتری ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

کنبھ میلہ

ہندو عقیدے کے مطابق دیوتاؤں اور بدی کی قوتوں کے درمیان آسمانوں میں مقدس پانی کے ایک برتن کے لیے لڑائی ہوئی تھی اور الہ آباد ان چار شہروں میں سے ایک ہے جہاں اس لڑائی کے دوران برتن میں سے مقدس پانی کے قطرے گرے تھے۔

ہندوؤں کے مطابق یہ لڑائی بارہ روز تک جاری رہی تھی اور وہ ہر دن ایک انسانی سال کے برابر ہے۔ ہر بارہ سال بعد ہونے والا مہا کمبھ اسی کی یاد میں ہوتا ہے۔

ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ اس میلے کے دوران مکرسنکرانتی کے وقت گنگا، جمنا اور سرسوتی کے سنگم پر غسل کرنے سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور انہیں ’مکتی‘ یا چھٹکارا مل جاتا ہے۔۔

گنگا اور جمنا کے برعکس سرسوتی ایک تصوارتی دریا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس سنگم پرگنگا اور جمنا کے ساتھ ملتا ہے۔

ڈاکٹر کلیم اکمل کے مطابق ’زیادہ تر افراد کو سانس کی بیماریاں، سردی، جوڑوں کا درد اور گرد سے الرجی تھی‘۔

میلے کے مقام پر تلاش گمشدہ کے دفتر نے اب تک چالیس ہزار افراد کو ایک دوسرے سے ملا چکے ہیں۔

ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ اس میلے کے دوران مکرسنکرانتی کے وقت گنگا، جمنا اور سرسوتی کے سنگم پر غسل کرنے سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور انہیں ’مکتی‘ یا چھٹکارا مل جاتا ہے۔۔

گنگا اور جمنا کے برعکس سرسوتی ایک تصوارتی دریا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس سنگم پرگنگا اور جمنا کے ساتھ ملتا ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق اس میلے کے انعقاد پر ساڑھے گیارہ ارب بھارتی روپے لاگت آئی ہے اور اس دوران ایک سو بیس ارب روپے کی کاروباری سرگرمیوں کی امید ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔