’ پھانسی سے بات چیت کی سیاست دفن ہوگئی‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 فروری 2013 ,‭ 09:36 GMT 14:36 PST

بھلے ہی کانگریس کو انتخابی فوائد ملے ہوں، لیکن ہماری تحریک مضبوط ہوئی ہے: میرواعظ عمر فاروق

بھارت کی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے مجرم افضل گورو کی پھانسی کے بعد اتوار کو بھی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں جبکہ علیٰحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ اس پھانسی نے بات چیت کی سیاست کو دفن کر دیا ہے۔

مير واعظ عمر فاروق نے افضل گورو کو پھانسی دیے جانے پر جموں و کشمیر میں چار روزہ ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہے۔

نئی دلّی میں نظر بند کیے گئے کشمیری علیٰحدگی پسند رہنما میر واعظ فاروق نے بی بی سی کے ساتھ انٹرنیٹ پر بات چیت کے دوران کہا کہ ’ہم نے دس سال تک بات چیت کو مقبول بنانے کے لیے تگ و دو کی، لیکن ایک آن میں دلّی نے بات چیت کی سیاست کو دفن کردیا۔ اس نے ثابت کردیا کہ بھارت کشمیریوں کے ساتھ جنگ پر آمادہ ہے۔ بات چیت اور جارحیت ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔‘

انہوں بتایا کہ حریت کانفرنس نے امریکہ، برطانیہ اور دوسری عالمی حکومتوں کو مطلع کیا ہے کہ 'کشمیریوں کو بھارت کی طرف سے مرحلہ وار نسل کشی کا خطرہ لاحق ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’افضل گورو کی شہادت ہماری تحریک کے لیے ایک اور تاریخی حوالہ ہے۔ اس سے بھلے ہی کانگریس کو انتخابی فوائد ملے ہوں، لیکن ہماری تحریک مضبوط ہوئی ہے۔‘

نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق میر واعظ نے بتایا کہ بات چیت کی سیاست اب کمزور پڑگئی ہے۔’نئی دلّی کی حرکتوں سے کشمیر میں تشدد مقبول ہو رہا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب نئی قوتیں نمودار ہوں گی اور تب ہماری بات کا بھی وزن نہیں رہےگا۔ اُس وقت پورے بھارت کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔‘

حریت رہنما نے بتایا کہ وہ عنقریب سید علی گیلانی کے ساتھ مشاورت کرکے تحریک کے اگلے موڑ کا تعین کریں گے۔ ’مکمل اتحاد میں رکاوٹیں حائل ہیں، لیکن ہم اشتراک عمل پر جمع ہو سکتے ہیں۔ نئی دلّی ہمارے لوگوں کو ایک ایک کرکے تختہ دار پر لٹکانے پر آمادہ ہے، لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

ادھر سنیچر کو افضل گورو کی پھانسی کے بعد پوری وادی میں لگائے جانے والے غیراعلانیہ کرفیو کا دائرہ دس اضلاع تک محدود کر دیا گیا ہے۔

ياسین ملک افضل گورو کی لاش حوالے کرنے کے مطالبے پر 24 گھنٹے کی بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔

ریاست کے تمام اضلاع میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس اب بھی بند ہے تاہم کیبل ٹی وی کی نشریات پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ سنیچر کو ہونے والی جھڑپوں میں تیرہ افراد زخمی ہوگئے تھے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

تازہ جھڑپیں عوام کی جانب سے کئی اضلاع میں کرفیو کی خلاف ورزیوں پر ہوئیں۔ اتوار کو جموں کے ڈوڈہ، بھدرواہ، کشٹواڑ اور دوسرے مسلم اکثریتی خطوں میں بھی لوگوں نے مظاہرے کیے۔

کشمیر کے جن علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں ان میں بارہ مولا اور سوپور قابلِ ذکر ہیں۔

خیال رہے کہ سوپور افضل گورو کا آبائی علاقہ ہے اور حساسیت کی وجہ سے یہاں سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری تعداد تعینات کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی بڑی تعداد میں پولیس فورس اور سی آر پی ایف کے جوان تعینات ہیں۔

ادھر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ ياسین ملک افضل گورو کی لاش حوالے کرنے کا مطالبہ لے کر نئی دلّی میں چوبیس گھنٹے کی بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔

افضل گورو کے بھائی محمد یٰسین گورو نے بتایا کہ وہ افضل کے باقیات کی واپسی اور ان کی آبائی قصبہ میں آخری رسومات کے لیے کوششیں کررہے ہیں اور ان کی لاش لانے کے لیے گورو خاندان کے کئی لوگ دلّی جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔