کشمیر، کرفیو جاری، فوجی فائرنگ سے تین ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 13:32 GMT 18:32 PST

افضل گورو کی پھانسی کے بعد سے ہی کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور پوری وادی میں نیم فوجی دستے گشت کر رہے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں تین روز سے مسلسل کرفیو جاری ہے اور کئی مقامات پر پولیس یا نیم فوجی اہلکاروں کی فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

کشمیر میں نو فروری کو اُس وقت حالات کشیدہ ہوگئے تھے جب بھارتی پارلیمان پر حملے کی سازش کے مبینہ مجرم افضل گورو کو دلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی اور وہیں دفن کیا گیا۔

اتوار کی شب شمالی کشمیر کے واترگام علاقہ میں نیم فوجی اہلکاروں نے ایک مشتعمل ہجوم پر فائرنگ کی جس میں کئی نوجوان زخمی ہوئے۔ ان میں سے پندرہ سالہ عُبیر مشتاق نے ہستپال میں دم توڑ دیا۔

بانڈی پورہ ضلع کے گاؤں میں فورسز نے ایک بھیڑ کا تعاقب کیا جس کے بعد کئی نوجوانون دریائے جہلم میں کود پڑے۔ ان میں سے دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ علاقہ میں کشیدگی ہے۔

دریں اثنا مقامی اخبارات، کیبل ٹی وی اور فون کے استعمال پر پابندیاں عائد ہیں۔ مقامی صحافیوں نے ان پابندیوں کی مذمت کی ہے۔

اس دوران سید علی گیلانی کو آج نئی دلّی میں تین روزہ نظربندی کے بعد سرینگر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رابطہ کی اجازت دی گئی۔

ان کی تنظیم تحریک حریت کشمیر کے ترجمان ڈاکٹر غلام محمد گنائی نے بی بی سی کو بتایا ’گیلانی صاحب نے لوگوں سے جمعہ تک مسلسل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ جمعہ کو سب لوگوں سے سرینگر کے وسیع عیدگاہ میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی ہے، تاکہ افضل گورو کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جائے۔‘

"ہم کہتے رہے کہ ہمیں معلوم نہیں تھا، لیکن حکومت اور پولیس افسروں نے دعوے کیے کہ ہم خط وصول کرکے جھوٹ بول رہے ہیں، اب تو ثابت ہوگیا کہ کون جھوٹا ہے۔"

افضل گورو کے اہل خانہ

اِدھر افضل گورو کے لواحقین کو پھانسی کی اطلاع کا وہ خط آج موصول ہوا جس کے بارے میں حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سپیڈ پوسٹ کے ذریعہ سات فروری کو ہی ارسال کیا گیا تھا۔

’ہم کہتے رہے کہ ہمیں معلوم نہیں تھا، لیکن حکومت اور پولیس افسروں نے دعوے کیے کہ ہم خط وصول کرکے جھوٹ بول رہے ہیں، اب تو ثابت ہوگیا کہ کون جھوٹا ہے۔‘

سرینگر میں تعینات چیف پوسٹ ماسٹر سیموئل جوزف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہیں یہ خط آج ملا اور انہوں نے اسے گورو خاندان کے سپرد کردیا۔

خط میں تہاڑ جیل نمبر تین کے اعلیٰ افسر نے افضل گورو کی اہلیہ کو مخاطب کر کے یہ اطلاع دی ہے کہ مسٹر گورو کی رحم کی درخواست نامنظور ہوگئی ہے اور ان کی پھانسی جیل نمبر تین میں ہی صبح آٹھ بجے طے ہے۔ اس خط پر چھ فروری کی تاریخ تحریر ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔