’ثابت کرنا ہوگا کہ پھانسی چنندہ سزا نہیں تھی‘

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 05:32 GMT 10:32 PST

اب کشمیریوں کی کئی نسلیں افضل کو یاد رکھیں گی: عمر عبداللہ

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پارلیمان پر حملے کی سازش کے جرم میں سزائے موت پانے والے افضل گورو کی پھانسی کو خفیہ رکھنے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی اپنے اہلِخانہ سے آخری ملاقات کیوں نہیں کروائی گئی۔

افضل گرو کو رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد سنیچر کو دلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی جس کے بعد انہیں جیل کے احاطے میں ہی دفنا دیا گیا تھا۔

ان کے اہلِخانہ سے بھارتی حکومت سے لاش حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک نے اس سلسلے میں دلّی میں بھوک ہڑتال بھی کی ہے۔

عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ یہ پھانسی کشمیری نوجوانوں میں بھارت سے دوری کے جذبات کو بھڑکانے کا سبب بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ اجمل قصاب کی پھانسی کے بعد انہیں لگنے لگا تھا کہ اب افضل گورو کی باری ہے۔ ’مجھے احساس تھا کہ افضل گورو کو جلد یا بدیر پھانسی دے دی جائے گی اور اب کشمیریوں کی کئی نسلیں افضل کو یاد رکھیں گی۔‘

بھارتی ٹی وی سی این این آئی بی این کو ایک انٹرویو میں وزیراعلیٰ جموں و کشمیر کا کہنا تھا کہ بھارت کو دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ افضل گرو کی پھانسی ایک ’چنندہ سزا‘ کا معاملہ نہیں تھا۔

عمر عبداللہ نے کہا ’آپ کو دنیا کے سامنے ثبوت دینا ہوگا کہ سزائے موت یہاں چنندہ طور پر استعمال نہیں کی گئی۔ ہماری عدلیہ اور سیاسی قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دکھائیں کہ یہ ’سلیکٹڈ ایگزیکیوشن‘ نہیں تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ اس پھانسی کے حوالے سے بھارتی حکومت کی جانب سے قوانین نظرانداز کیے جانے پر بھی ان کے خدشات ہیں۔

"اگر ہم کسی کو بذریعہ ڈاک یہ بتا رہے ہیں کہ اس کے خاندان کے رکن کو پھانسی دی جانے والی ہے تو اس نظام میں کچھ بڑی خرابیاں ہیں۔"

عمر عبداللہ

عمر عبداللہ کا کہنا تھا ’المیہ‘ یہ ہے کہ گورو کو پھانسی سے قبل ان کے خاندان سے ملاقات کرنے اور آخری بار انہیں الوداع کہنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ ’اگر ہم کسی کو بذریعہ ڈاک یہ بتا رہے ہیں کہ اس کے خاندان کے رکن کو پھانسی دی جانے والی ہے تو اس نظام میں کچھ بڑی خرابیاں ہیں۔‘

تاہم عمر عبداللہ کے اس بیان پر بھارت کے سیکرٹری داخلہ آر کے سنگھ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں تمام قوانین مدِنظر رکھے گئے اور یہ صرف قانونی راستے کی بات ہے۔

خیال رہے کہ افضل گورو کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں یا افضل کی اہلیہ اور بیٹے کو پھانسی کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور انہیں اس بارے میں میڈیا سے پتا چلا تھا۔

پاکستان کا ردعمل

افضل گورو کو پھانسی دیئے جانے کے متعلق میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے سوال کے جواب میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم مقدمہ کی جزیات میں جانا نہیں چاہتے۔

ان پر میڈیا میں اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں بحث جاری ہے۔

بہرحال ہم جموں اور کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور افضل گورو کی پھانسی کے بعد جس طرح سے بھارت نے کشمیریوں کی امیدوں کو جابرانہ انداز میں کچلا ہے اور حریت رہنماؤں کی حراست، کرفیو، خبروں کے بلیک آوٹ اور دوسرے زور زبردستی والے اقدام کیے ہیں ان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں

۔ ہم انسدادی اقدامات کے خاتمے اور حریت رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔