مودی پر نکتہ چینی پر کاٹجوسے استعفے کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  پير 18 فروری 2013 ,‭ 04:27 GMT 09:27 PST
مارکنڈے کاٹجو

مارکنڈے کاٹجو اپنے بے باک اور متنازع بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں

بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی پر نکتہ چینی کرنے کے لیے پریس کونسل آف انڈیا کے سربراہ جسٹس مارکنڈے کاٹجو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی کے رہنما ارون جیٹلی نے جسٹس کاٹجو کو ’کانگریسی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف غیر کانگریسی حکومتوں پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔

نریندر مودی پر کاٹجو کے ایک حالیہ مضمون کا ذکر کرتے ہوئے جیٹلی نے کہا کہ یہ مضمون مودی کے خلاف کاٹجو کا ذاتی حملہ محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے مزیر کہا کہ ’ایسا لگتا ہے جیسے کاٹجو 2002 کے گودھرا ٹرین واقعے کے مجرموں کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

جسٹس کاٹجو نے گودھرا میں ٹرین کے ایک ڈبے میں 59 کارسیوکوں یا ہندو رضاکاروں کو ہلاک کرنے کےواقعے کا ذکر کرتے ہوئے اس مضمون میں لکھا تھا ’گودھرا میں جو واقعہ ہوا تھا وہ اب بھی پراسرار بنا ہوا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’میرے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ 2002 کے فسادات میں مودی کوئی ہاتھ نہیں تھا۔‘

جسٹس کاٹجو حالیہ دنوں میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار پر بھی پریس پر پابندیاں لگانے کے لیے نکتہ چینی کر چکے ہیں۔

نریندر مودی

نریندر مودی وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں ہیں

ارون جیٹلی نے جسٹس کاٹجو سے مستعفی ہونے کا مطابلہ کرتے ہوئے کہا: ’غیر کانگریسی حکومتوں پر ان کی نکتہ چینی کی نوعیت شکریے کی ادائیگي جیسی ہے جو وہ بظاہر ان لوگوں کو ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے انہیں سبکدوشی کے بعد یہ ملازمت فراہم کی ہے۔‘

جسٹس کاٹجو نے جواب میں کہا ہے جیٹلی حقائق کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں اور انہیں سیاست سے سبکدوش ہو جانا چاہئیے۔

مودی پر گذشتہ جمعہ کو ایک اخبار میں لکھےگئے مضمون میں جسٹس کاٹجو نے بھارت کی عوام پر زور دیا تھا کہ وہ مودی کو وزارت عظمیٰ تک نہ آنے دیں: ’ملک کی عوام کو وہ غلطی نہیں کرنی چاہئیے جوجرمن قوم نے 1933 میں جرمنی میں (نازیوں کو اقتدار میں لا کر) کی تھی۔‘

کاٹجو نے گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی تفریق اور مودی کی پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہو اس مضمون میں لکھا تھا کہ بھارت شمالی امریکہ کی طرح بنیادی طور پر تارکین وطن کا ملک ہے۔ یہ مختلف ثقافت اور کلچر کا ملک ہے۔ اس لیے اس کو صرف سیکیولرزم اور ہرمذہب اور نسل کے ساتھ مساوی سلوک اور احترام کے اصول سے ہی متحد اورخوشحال رکھا جا سکتا ہے۔

مودی اور بی جے پی کو انہوں نے ’تنگ نظر‘ قراردیا تھا ۔

مودی نے ٹویٹ کرتے ہوئے جسٹس کاٹجوکے بارے میں لکھا ہے کہ وہ گجرات کی ترقی کو متعصبانہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اوربقول ان کے جسٹس کاٹجو کے خیالات جھوٹ پرمبنی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔