فرضی پولیس مقابلے،اعلیٰ پولیس اہلکار گرفتار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 فروری 2013 ,‭ 13:12 GMT 18:12 PST
عشرت جہاں اور انکے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد کی فوٹو

گجرات پولیس کا موقوف ہے کہ عشرت جہاں کا تعلق شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ سے تھا

بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے عشرت جہاں فرضی مقابلہ کیس میں گجرات کے ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔

آئی پی ایس افسر جی ایل سنگھل عشرت جہاں پولیس مقابلے کے دوران جائے وقوع پر موجود تھے اور عشرت جہاں اور ان کے ساتھیوں کے انکاؤنٹر کے وقت گجرات کرائم برانچ کے اسسٹنٹ کمشنر تھے۔

انگریزی اخبار دا ہندوستان ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق اطلاعات ہیں کہ جی ایل سنگھل عشرت جہاں اور ان کے ساتھیوں کا انکاؤنٹر کرنے والی پولیس کی ٹیم کا حصہ تھے۔

اس سے قبل گجرات ہائی کورٹ نے عشرت جہاں فرضی مقابلے کیس کے بارے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے کی تفتیش میں ریاستی پولیس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے اس لیے معاملے کی تفتیش کی ذمہ داری سی بی آئی کو سپرد کی جاتی ہے۔

گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور ریاست کی پولیس کو اس الزام کا سامنا ہے کہ اس نے سنہ دو ہزار چار میں انیس سالہ طالبہ عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کو ایک فرضی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔

ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ عشرت جہاں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا اور وہ وزیراعلٰی نریندر مودی کو ہلاک کرنے کے لیے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ممبئی سے گجرات آئیں تھیں۔

فرضی پولیس مقابلہ

گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور ریاست کی پولیس کو اس الزام کا سامنا ہے کہ اس نے سنہ دو ہزار چار میں انیس سالہ طالبہ عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کو ایک فرضی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔

اس سے قبل عدالت کی تشکیل کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم نے اس کیس کی چھان بین کےبعد اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پولیس کا دعوٰی فرضی ہے اور عشرت جہاں اور ان کے ساتھیوں کو مبینہ پولیس مقابلے سے پہلے ہی ہلاک کیا جا چکا تھا۔

عدالت نے کہا کہ یہ ایک غیرمعمولی کیس ہے جس کے مضمرات قومی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

ہائی کورٹ نےایس آئی ٹی کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس معاملے میں متعلقہ پولیس افسران کے خلاف قتل کا نیا مقدمہ درج کرائے تاکہ سی بی آئی اپنی تفتیش شروع کر سکے۔

عشرت جہاں کے اہل خانہ کافی عرصے سے اس معاملے کی سی بی آئی سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

فرضی مقابلے کے ایک دوسرے کیس میں گجرات ریاست کے کئی سابق اعلیٰ پولیس افسر پہلے سےجیل میں ہیں۔

ان میں ڈی جی ونزارا بھی شامل ہیں جو اس وقت ڈی آئی جی کے عہدے پر فائز تھے اور جن پر عشرت جہاں کیس میں بھی ملوث ہونے کا الزام ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔