بھارتی عوام دہشت گردوں کے نشانے پر

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 10:35 GMT 15:35 PST
حیدرآباد پولیس

حیدرآباد کے حالیہ دھماکے کے بعد سیکوریٹی عملہ حرکت میں آیا

کچھ عرصے سے بھارت میں بم دھماکوں اور دہشت گرد کاروائیوں کا سلسلسہ ختم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ ماضی کے وہ بھیانک واقعات کسی ڈراؤنے خواب کی طرح ذہن کے کسی گوشے میں دب گئے تھے۔لیکن حیدرآباد کے بم دھماکے نے بھارت میں ایک بار پھر دہشت گردی کی تلخ حقیقت سامنے لا دی ہے۔

جا بجا بکھری ہوئی لاشیں ، زحمیوں سے بھرے ہوئے ہسپتال، اور بے بس اور ہراساں رشتے دار جو یہ سمبھنے سے قاصر ہیں کہ آخر یہ کیا ہوا۔

ہر دھماکے کے بعد سیاسی رہناؤں کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف سخت مذمتی بیانات جاری کیے جاتے ہیں، پریس کانفرنسز ہوتی ہیں۔ پارلیمنٹ کا اجلاس اگر چل رہا ہوتا ہے تو وہاں وزیر داخلہ کا بیان اور اگردھماکہ بڑا ہے تو وزیر اعظم کا بیان اور پھر ایک لمبی بحث جو ہمیشہ کسی فیصلہ کن نتیجے پرپہنچے بغیر مکمل ہوتی ہے۔

ہر دھما کے کے کچھ ہی دیر بعد اس طرح کی خبریں فلیش اور بریکنگ نیوز میں آنے لگتی ہیں۔ این ایس جی کے کمانڈوز بی ایس ایف کے طیارے کے ذریعے جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ این آئی اے کی ٹیم دھماکے کی جگہ پہنچ گئی۔کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ یہ لوگ دھماکے سے پہلے کبھی کیوں نہیں پہنچتے۔

دہشت گردی کی وارداتوں کے لیے دہشت گردوں کی بھی کچھ پسندیدہ جگہیں ہیں۔ دلی، ممبئی، جیدرآباد، جے پور وغیرہ۔ ہر بار یہ دہشت گرد سیکیورٹی کی پوری تیاریوں، ہر طرح کے کالے نیلے پیلے الرٹ کے باوجود معصوموں کا قتل عام کرکے آسانی سے بھارتی سکیورٹی ایجینسیوں کے حصار سے نکل جاتے ہیں۔

بھارتی میڈیا دہشت گردی کی تفتیش میں پولیس اور خفیہ ذرائع سے ہمیشہ آگے رہا ہے۔ پولیس اور خفیہ ایجنیسی والے ابھی سراغ ہی جمع کر رہے ہوتے ہیں اور ٹی وی چینلز طرح طرح کی تصویریں بھی جاری کر دیتی ہیں، تنظیموں کے نام بھی بتا دیتی ہیں اور کئی بار تو پورے واقعے کا ڈرامائی منظر بھی فلم کی طرح پیش کردیتی ہیں۔

دھماکہ

دھماکے بعد معمول کی کاروائی کی گئی

ہر دھماکے کے بعد یہ معمول کا عمل ہے جو پچھلے پندرہ بیس برس سے یوں ہی چلتا چلا آ رہا ہے۔ اب تو پولیس والے بھی میڈیا کو بتا کر گرفتاری کے لیے نکلا کرتے ہیں۔ اکثر ایسی خبریں ٹی وی میں شہ سر خیوں میں رہتی ہے کہ این آئی اے کی ٹیم ٹاپ دہشت گرد یاسین بھٹکل کو پکڑنے کے لیے بہار پہنچنے والی ہے۔ اس کا مطلب بھٹکل کو الرٹ کرنا ہوتا ہے یا عوام کو بےوقوف بنانا۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا۔

جیدرآباد کے دھماکے کے بعد اس نیریٹیو میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ ٹی وی چینلوں پر سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے وہ بیان بار بار دکھایا گیاہے جس میں انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد دہشت گردوں کو ان کے مسکنوں میں ہلاک کرنے کی بات کہی تھی۔

ماہرین اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ چونکہ بقول ان کے ان تمام دہشت گردیوں کا محور پاکستان ہے اس لیے بھارت کو اب اسرائیل اور امریکہ کے طرز پراپنے دشمنوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ختم کرنا چاہیئے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے حکومت پرزور دیا ہے وہ پاکستان سے بس، ٹرین، تجارت اوراعتماد سازی کا سارا عمل فوری طور پر روک دے اور پاکستان سے اپنے سفارتی تعلقات کی سطح گھٹا دے۔

دہشت گرد اپنے مقصد میں اچھی طرح کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ دہشت گردوں نے عوام پر کاری ضرب لگائی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔