حیدرآباد دھماکے:’انڈین مجاہدین سے پوچھ گچھ‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 15:03 GMT 20:03 PST

دھماکوں کے وقت جائے وقوع پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے

بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے شہر حیدر آباد میں جمعرات کو ہونے والے دو بم دھماکوں کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے اس سلسلے میں ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

حیدرآباد کے پولیس کمشنر انوراگ شرما نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تفتیش سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ان دھماکوں میں امونیم نائٹریٹ کا استمعال کیا گیا ہے۔

انوراگ شرما نے حیدرآباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سکیورٹی اہلکار شدت پسند تنظیم انڈین مجاہدین کے کچھ ممبران سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا’کہ انڈین مجاہدین نے بتایا تھا کہ انہوں نے چار علاقوں کا معائنہ کیا تھا جس میں دل سکھ نگر بھی شامل تھا۔‘

انوراگ شرما نے یہ بھی بتایا کہ پندرہ فروری کو انہیں یہ الرٹ ملا تھا کہ شدت پسند دلی، حیدرآباد، ممبئی اور بنگلور میں شدت حملہ کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کی شام تقریباً سات بجے حیدرآباد کے دل سکھ علاقے میں دو بم دھماکے ہوئے تھے جس میں سولہ افراد ہلاک جبکہ ایک سو انیس زخمی ہوئے ہیں۔

اب تک کسی گروہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے دھماکوں کے فوراً بعد کہا تھا کہ ’یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ تاہم ان کے پاس اس طرح کی خفیہ اطلاعات تھیں کہ ملک میں کہیں بھی اس طرح کا دھماکے ہو سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ حیدر آباد میں دو ہزار سات کے بعد پہلی بار بم دھماکے ہوئے ہیں۔

جب وہ تین دھماکے ہوئے تھے تب بھی ایک بم دل سكھ نگر میں رکھا گیا تھا مگر اسے غیر فعال کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔