بھارت: پشکر میں یہودی مرکز پر سکیورٹی سخت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 12:08 GMT 17:08 PST
پشکر میلہ

پشکر کو ہندوؤں کے پانچویں مقدس ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے، یہاں مویشیوں کا میلہ بھی لگتا ہے

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان کے شہر پشکر میں یہودی عبادت خانے ’بادخاباد‘ کے گرد سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ اقدام جنوبی بھارت کے شہر حیدرآباد میں ہونے والے حالیہ دھماکے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

پشکر ہندو کا مقدس اور مندروں کا شہر شمار ہوتا ہے جو اجمیر ضلعے کے تحت آتا ہے۔

اجمیر کے ایس پی گورو سریواستو نے کہا ہے کہ یہودیوں کے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’چھابد پر تعینات گارڈز کی تعداد دوگنی کر دی گئی ہے اور انہیں بلٹ پروف جیکٹوں کے علاوہ جدید اسلحے سے لیس کیا گیا ہے تاکہ وہ کسی ممکنہ شدت پسند حملے سے بخوبی نمٹ سکیں۔‘

دوسری جانب اس مندروں کے شہر کی ہندو پجاری یہ چاہتے ہیں کہ یا تو اس یہودی عبادت خانے کو بند کر دیا جائے یا پھر اسے کہیں دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے۔

"ہم اسرائیلی سیاحوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن ان کی وجہ سے جب یہاں لوگوں کو کافی سکیورٹی نظر آئے گی تو یہ بات شہر کی بری شبیہ پیش کرے گی"

گوند پروہت

پشکر میں پجاریوں کی برادری کی نمائندگی کرنے والی تنظیم تیرتھ گرو پشکر سنگھ ٹرسٹ کے ایک اہل کار گوند پراشر نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ یہ عبادت خانہ شہر کے لیے مسئلہ بن گیا ہے۔ اسے کہیں منتقل کر دیا جانا چاہیے یا پھر اسے بند کر دیا جانا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ پشکر کو ہندوؤں کے پانچویں مقدس ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔

اجمیر کے ایس پی کے دورے کے بعد سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور مسلح سکیورٹی گارڈوں کو دن رات نگرانی کے لیے کہا گیا ہے جبکہ یہودی عبادت خانے کی چھت سے سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

ایس پی سریواستو نے کہا: ’یہ کوئی نئی بات نہیں، آپ کو معلوم ہے کہ سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے یہ حساس جگہ ہے اس لیے میں نے وہاں کا دورہ کیا اور اس جگہ کی سکیورٹی بڑھا دی۔‘

واضح رہے کہ اجمیر سے ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع پشکر کی زیارت گاہ بیرون ممالک سے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔

پشکر

پشکر کو مندروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے

ایک مقامی پولیس افسر کے مطابق چار سے پانچ ہزار اسرائیلی ہر سال وہاں کا سفر کرتے ہیں۔ اسرائیلی سیاحوں کے اثرات اس مقدس شہر میں نظر آتے ہیں جہاں اسرائیلی سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے عبرانی زبان میں سائن بورڈ نظر آتے ہیں۔

ایک مقامی پجاری کے مطابق یہ عبادت خانہ کوئی 15 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور وہاں مقامی لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ممبئی کے شدت پسند حملے کے بعد اس مرکز پر حکام کی نظر پڑی ہے۔ ممبئی حملوں کی تفتیش میں یہ معلوم ہوا تھا کہ حملے میں ملوث امریکی شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نےمارچ 2009 میں پشکر میں قیام کیا تھا۔

مقامی پجاریوں کے مطابق اسرائیلی سیاحوں کی مسلسل آمد اس شہر کی آمدنی کا ذریعہ بن گئی ہے۔

گوند پروہت نے کہا: ’ہم اسرائیلی سیاحوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن ان کی وجہ سے جب یہاں لوگوں کو کافی سکیورٹی نظر آئے گی تو یہ بات شہر کی بری شبیہ پیش کرے گی۔‘

واضح رہے کہ پشکر بھارت کے رنگا رنگ مویشیوں کے میلے کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔