چک ہیگل کی تقرری پاکستان بھارت کا ملا جلا ردعمل

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 09:05 GMT 14:05 PST
چک ہیگل

چک ہیگل امریکہ کے نئے وزیرا دفاع مقرر

پاکستان اور بھارت نے امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کی نامزدگی پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بھارت میں چک ہیگل کی تقرری کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان چک ہیگل کے بیان کو بنیاد بناتے ہوئے اقوام متحدہ میں جا سکتا ہے جس میں چک ہیگل نے کہا تھا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہ افغانستان کے راستے پاکستان میں بھارتی مداخلت کے متعلق بہت سے شواہد دنیا کے علاوہ ایوان بالا کو دے چکے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ افغان صدر حامد کرزئی کو بھی اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی کہ انہوں نے بھارتی ایجنٹوں کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی کیوں اجازت دی گئی ہے۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس پاکستان افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے جبکہ اس کے علاوہ پچاس لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی بھی کرر ہا ہے۔

ادھر بھارت نے چک ہیگل کی نامزدگی پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی شکوک کی وجہ چک ہیگل ان کی ایک پرانی تقریر ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف ’دوسرے محاذ‘ کے طور پر استعمال کرتا ہے اور پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے لیے وہاں پیسہ خرچ کرتا ہے۔

انہوں نے یہ بات سن دو ہزار گیارہ میں امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی لیکن تقریر اسی ہفتے منظر عام پر آئی ہے۔

بہر حال بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے محتاط رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس بیان کا جائزہ لینے کے بعد ہی کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ بات کس تناظر میں کہی گئی تھی اور اس کا سیاق و سباق کیا تھا۔‘

لیکن امریکہ میں بھارت کے سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چک ہیگل بھارت کے دوست ہیں اور ان سے جو بیان منسوب کیا گیا ہے وہ زمینی صورتحال سے بہت مختلف ہے اور یہ کہ وہاں بھارت افغان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے۔

چک ہیگل کی تقریر

"کچھ عرصے سے بھارت افغانستان کو دوسرے محاذ کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ اور سرحد کے اس پار پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی غرض سے اس نے پیسے کا استعمال کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہت عرصے سے تعلقات کشیدہ ہیں۔"

یہ تقریر امریکی سینیٹ میں چک ہیگل کی نامزدگی پر ووٹنگ سے ایک روز قبل جاری کی گئی تھی۔ سینٹ نے چک ہیگل کی تقرری کی منظوری دیدی ہے۔

تقریر کی ویڈیو میں چک ہیگل بظاہر کہہ رہے ہیں کہ’ کچھ عرصے سے بھارت افغانستان کو دوسرے محاذ کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ اور سرحد کے اُس پار پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی غرض سے اس نے پیسے کا استعمال کیا ہے۔۔۔ بات یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بہت عرصے سے تعلقات کشیدہ ہیں ۔۔۔۔‘

دلی میں وفاقی وزیرِ اطلاعات منیش تیواری نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کی مدد کی ہے۔ ’جہاں تک افغانستان کا سوال ہے، ہمارا موقف بہت صاف رہا ہے، وہاں ہم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیے جانے والے کام اور ترقیاتی اداروں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی لیے ہر سروے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ افغانستان میں بھارت سب سے مقبول ملک ہے اور چک ہیگل کو یہ باتیں بھی مد نظر رکھنی چاہئیں۔‘

بھارت میں حزبِ اختلاف کی اہم جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما یشونت سنہا نے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین الزام ہے کہ بھارت پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے لیے افغانستان میں لوگوں کو پیسہ دیتا ہے اور ’ہمیں حیرت ہے کہ بھارتی حکومت نےابھی باضابطہ طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔‘

پاکستان کا یہ دیرینہ الزام ہے کہ بھارت اس کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے لیے افغانستان میں اپنا اثر رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ لیکن بھارت اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ افغانستان سے اس کے تاریخی روابط ہیں اور اس نے ہمیشہ افغان عوام کا ساتھ دیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔