بھارتی ریل بجٹ: کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 05:14 GMT 10:14 PST
پون کمار بنسل

بھارت میں ریل بجٹ عام بجٹ سے علیحدہ پیش کیا جاتا ہے

بھارت میں ریلوے کے وزیر پون کمار بنسل نے گزشتہ روز اپنا پہلا ریل بجٹ پیش کیا لیکن ریلوے کو کافی خسارے کے باوجود کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

کمار بنسل نے کہا کہ اس وقت ملک میں بارہ ہزار تین سو سے زیادہ ریل گاڑیاں چلتی ہیں لیکن مجموعی طور پر ریلوے کی حالت اچھی نہیں ہے اور اس کی مالی حالت کو بہتر کیے بغیر بہتر سہولیات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔

انہوں نے سو سے زیادہ نئی ریل گاڑیاں چلانے اور موجودہ ٹرینوں میں لگژری کوچ شامل کرنے کا اعلان بھی کیا۔

سترہ سال کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب کسی کانگرسی رہنما نے ریلوے کا بجٹ پیش کیا۔ اس سے پہلے کانگریس کی حکومتوں میں ریلوے کا قلمدان ہمیشہ اس کی اتحادی جماعتوں کے پاس رہا ہے۔

کمار بنسل نے بجٹ سے پہلے ہی گزشتہ ماہ کرایوں میں اضافے کا اعلان کردیا تھا۔

ریلوے کے وزیر پون کمار بنسل نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا بوجھ مسافروں پر نہیں ڈالا جائے گا اور اس مد میں ریلوے پر ساڑھے آٹھ سو کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا لیکن انہوں نے اعلان کیا کہ مال گاڑیوں میں کرایوں کو اب براہ راست ڈیزل کی قیمت سے مربوط کردیا گیا ہے اور سال میں دو مرتبہ کرایوں میں اضافہ یا کمی کی جائے گی۔

خصوصیات اور خدمات

  • ریلوے سیکورٹی فورس میں خواتین اہلکاروں کے لیے دس فیصد ریزرویشن
  • مال برداری
    کے لیے ملک کے شمال مشرقی حصے کو ریل نیٹ ورک سے جوڑنے پر زور
  • نئے ریزرویشن نظام کو ایک ساتھ ایک لاکھ افراد استعمال کر سکیں گے
  • نئے نظام میں ایک منٹ میں 7 ہزار ٹکٹ ایک ساتھ كٹیں گے
  • ایئرکنڈیشن والی ریل گاڑیوں میں الگ سے کوچ جوڑے جائیں گے
  • راجدھانی اور شتابدی ریل گاڑیوں میں بھی خصوصی ڈبے لگائے جائیں گے
  • اٹھاون ریل گاڑیوں کے روٹ
    میں توسیع
  • مال بردار کے کرائے میں 5 فیصد کا اضافہ
  • مخصوص ریل گاڑیوں میں مفت میں وائی فائی سہولیات

انہوں نے ٹکٹوں کی بکنگ اور انہیں کینسل یا رد کرنے کی فیس اور سوپر فاسٹ ٹرینوں میں سفر پر لگائے جانے والے اضافی چارچ بڑھانے کا اعلان کیا لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ اضافہ کتنا ہے۔

بھارت کا ریل نیٹ ورک دنیا کا چوتھا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے اور اس میں چودہ لاکھ سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں۔

جنوری میں کرایوں میں اضافہ کرکے کمار بنسل نے ساڑھ چھ ہزار کروڑ روپے کی اضافی رقم حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس کے فوراً بعد بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ریلوے پر تین ہزار تین سو کروڑ روپے کا بوجھ بڑھا گیا تھا۔

اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ ریلوے کو اگر اچھی سروس فراہم کرنی ہے تو ضروری ہے کہ ہر سال پانچ سے چھ فیصد کرایہ بڑھایا جائے۔ تخمینوں کے مطابق بھارتی ریلوے کو رواں مالی سال میں چوبیس ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوگا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دو ہزار کروڑ روپے زیادہ ہے۔

حادثات کے معاملے میں بھارتی ریلویز کا ریکارڈ کافی خراب ہے۔ پون کمار بنسل نے کہا کے پچاس فیصد حادثے دیہی علاقوں میں ایسی ریلوے کراسنگز پر ہوتے ہیں جہاں ریلوے کا عملہ تعینات نہیں ہوتا اور اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کارروائی کی جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔