دفاعی اخراجات کے لیے دو لاکھ کروڑ روپے مختص

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 10:30 GMT 15:30 PST

یہ رقم گزشتہ برس کے مقابلے ساڑھے چار فی صد زیادہ ہے

بھارت کی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے سولہ لاکھ چونسٹھ ہزار کروڑ روپے یعنی تقریباً تین سو ارب ڈالر کا بجٹ پیش کر دیا۔

اس بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے دو لاکھ تین ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ انکم ٹیکس کی شرح اور حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

بھارتی پارلمیان میں سنہ دو ہزار تیرہ کے مالی سال کے لیے ملک کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ پی چدامبرم نے ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رکھی اور کہا کہ انکم ٹیکس کی شرح میں معمولی کمی سے لاکھون ٹیکس دہندگان ٹیکس کے دائرے سے باہر نکل جائیں گے۔

چدامبرم نے اس بجٹ میں ان افراد جن کی قابل ٹیکس رقم ایک کروڑ روپے سے تجاوز کرتی ہے پر دس فیصد کا سر چارج نافذ کرنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے سنہ دو ہزار تیرہ کے لیے دفاعی اخراجات کے لیے دو لاکھ کروڑ روپے کی رقم مختص کی۔

انہوں نے کہا ’اس رقم کے علاوہ قومی سلامتی کے لیے جب بھی اضافی فنڈ کی ضرورت ہوگی حکومت مہیا کرے گی‘ ۔

خیال رہے کہ یہ رقم گزشتہ برس کے مقابلے ساڑھے چار فیصد زیادہ ہے۔

" بھارت دنیا کی دسویں سب سے بڑی معیشت ہے اور سنہ دو ہزار سترہ تک یہ دنیا کی ساتویں یا آٹھویں سب سے بڑی معیشت کا درجہ حاصل کر لے گا۔"

وزیر خزانہ پی چدامبرم

جمعرات کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں ملک کے بڑے بڑے شہروں کے درمیان تجارتی کوریڈور بنانے، بندرگاہوں کی وسعت اور سڑکوں کی تعمیر جیسے بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں پر مرکوز رہی۔

اس بجٹ میں ملک کے غریب اور غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کو صحت کا بیمہ فراہم کرانے، بچوں کی تعلیم کو عام کرنے اور روزگار کی مختلف سکیموں جیسے اہم پہلو شامل ہیں۔

بجٹ میں خواتین کو اوپر لانے کے لیے کئی اہم سکیموں کا اعلان کیا گیا اور اس برس اکتوبر میں صرف خواتین کے ذریعے اور خواتین کے لیے کام کرنے والا ایک سرکاری بینک قائم کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔

‎سگریٹ، شراب، موبائل فون، ایس یو وی گاڑیوں اور غیر ملکی کمپنیوں پر ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ ملک کے تمام ریستوران اب سروس ٹیکس کے دائرے میں ہوں گے۔ ٹیکس کے علاوہ تین فیصد تعلیمی سرچارج بھی بدستور جاری رہے گا۔

کسٹمز اور ایکسائز ڈیوٹی میں کم و بیش کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

ملک کے صنعت کاروں نے بجٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔ بجٹ سے جوتے، چمڑے کے سامان اور ریڈی میڈ کپڑے معمولی سستے ہوں گے۔

آئندہ برس پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر ملک کے متوسط طبقے کو ٹیکس میں کچھ رعایت دی جائے گی لیکن انکم ٹیکس کی شرح میں کوئی تبدیلی نہ کیے جانے سے متوسط طبقے کو ضرور مایوسی ہوئی ہے۔

چدامبرم نے کہا کہ بھارت گزشتہ سالوں کی طرح آٹھ فی صد کی شرح ترقی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی دسویں سب سے بڑی معیشت ہے اور سنہ دو ہزار سترہ تک یہ دنیا کی ساتویں یا آٹھویں سب سے بڑی معیشت کا درجہ حاصل کر لے گا۔

چدامبرم کے مطابق سنہ دو ہزار پچیس تک بھارت پانچ کھرب ڈالر کی معیشت ہو گا اور اس کا شمار دنیا کی پانچ سب سے بڑی معیشتوں میں ہو گا۔

’ہم کیا بن سکیں گے اس کا انحصار ہمارے طریقۂ کار اور اس بات پر ہو گا کہ ہم کیا بننا چاہتے ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔