افضل گورو کی میت کی واپسی کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 مارچ 2013 ,‭ 10:55 GMT 15:55 PST
افضل گورو کی پھانسی کے خلاف مظاہرہ

بھارتی حکومت کو پٹیشن پیش کی گئی ہے کہ افضل گورو کی باقیات کو کشمیروں کے سپرد کیا جائے

گزشتہ ماہ دلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی پر چڑھائے گئے کشمیری علیحدگی پسند افضل گورو کی میّت کو کشمیر واپس لانے کے لیے کشمیر میں سیاسی اور سماجی گروپ سرگرم تحریک چلارہے ہیں۔

اس مطالبے پر حکومت ہند کی سرد مہری کے خلاف جمعہ کے روز وادی میں ہڑتال کی گئی اور کئی مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔

پچھلے تین ہفتوں میں یہ پہلی بار ہے کہ حکومت نے ہڑتال کے دوران سکیورٹی پابندیاں نافذ نہیں کیں۔ بعض قصبوں میں ہڑتال کا جزوی اثر رہا لیکن مجموعی طور پر تعلیمی اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوگئیں۔

اس دوران انسانی حقوق کے لیے سرگرم مختلف گروپوں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائیٹیز یا سی سی ایس نے جموں کشمیر کے ساڑھے آٹھ سو شہریوں کی طرف سے دستخط شدہ درخواست حکومت ہند کو پیش کی ہے، جس میں افضل گورو کے باقیات کشمیریوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس درخواست میں طالب علموں، اساتذہ، سیاسی اور سماجی کارکنوں، صحافیوں اور بعض سرکاری ملازمین کے دستخط ہیں۔

سی سی ایس کے ترجمان خرم پرویز نے بتایا ’افضل گورو کے باقیات کو بھی قید کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت ہند نے اس سے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ جنگی طریقہ کار اپنا کر اس خطے پر اپنا کنٹرول قائم رکھنا چاہتی ہے۔‘

واضح رہے علیحدگی پسند رہنماؤں نے افضل گورو کے باقیات کی واپسی کے لیے مشترکہ تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک دوسرے سے ناراض علیحدگی پسند گروپوں نے ’متحدہ مجلس مشاورت‘ تشکیل دی ہے جس میں میر واعظ عمرفاروق، سید علی گیلانی اور دوسرے رہنماؤں کے نمائندے شامل ہیں۔

"افضل گورو کے باقیات کو بھی قید کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے"

خرم پرویز، ترجمان سی سی ایس

کالعدم قرار دی گئی عسکری جماعت لشکر طیبہ کے سربراہ محمود شاہ نے مجلس مشاورت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ لشکر کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ غزنوی نے بی بی سی کو بتایا ’مجلس مشاورت کشمیریوں کے احساسات کی ترجمان ہے اور کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ اس کے دیے گئے پروگراموں پر عمل کرے۔‘

جمعہ کے لیے ہڑتال کا اعلان مجلس مشاورت نے ہی کیا تھا۔

دریں اثنا افضل گورو کے باقیات کی واپسی کے لیے مختلف انجمنیں سیمیناروں اور مباحثوں کا اہتمام کرنے لگی ہیں۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں مقررین نے بتایا ’ہندوستان نے خود یہ ثابت کردیا ہے کہ کشمیر اس کا حصہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو انہیں کشمیریوں کو پھانسی دے کر بھی قید کرنے کی ضرورت نہ پڑھتی۔‘

تنظیم کے سربراہ اور سابق عسکریت پسند محمد احسن اونتو نے بتایا کہ کشمیر میں اٹھارہ ہزار افراد کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمے درج ہیں اور ایسے ساڑھے تین سو کشمیری بھارت کی مختلف جیلوں میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ان میں سے اکثر پر قتل کے الزامات ہیں، اور متعدد کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں ہیں۔ سول سوسائٹی کو سوچنا ہوگا کہ اس معاملے میں ہمارا کیا ردعمل ہونا چاہیے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔