ہم تو پہلے جیسے ہی غریب ہیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 مارچ 2013 ,‭ 08:35 GMT 13:35 PST
روپیہ

بھارت کی معیشت حالیہ دنوں سست روی کا شکار رہی ہے

بھارت نے آزادی کے بعد اپنے لیے جو اقتصادی نظام منتخب کیا وہ سابقہ سویت یونین کے ماڈل پربنایا گیا تھا۔ ملک کی بیشتر آبادی انتہائی غربت کاشکار تھی۔ صحت، تعلیم، سڑکیں، بندرگاہیں، نقل و حمل کا نظام، صنعتوں کا قیام سب کچھ اس نئے بھارت میں تعمیر کیا جانا تھا۔ صرف حکومت ہی اس طرح کی سرمایہ کاری کی متحمل ہو سکتی تھی۔

سویت یونین کا ماڈل بھارت میں 1990 تک جاری رہا۔ دنیا کافی آگے نکل چکی تھی۔ چین، ملائیشیا، کوریا، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ جیسے ایشیائی ممالک جو کسی مرحلے پر بھارت ہی کی طرح غریب اور پسماندہ تھے وہ بھارت سے بہت آگے نکل چکے تھے۔

ان ممالک نے ایک بہتر معاشی نظام اختیار کیا اور سیاست کو بے کار کی بیان بازیوں اور فالتو تقریروں کے بجائے معیشت اور ترقی پر مرکوز کر دیا۔

تقریبا پندرہ برس قبل جب دلّی میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت بنی تو پہلی بار آزادی کے ابتدائی دنوں کے بعد سیاست کا رخ معیشت کی طرف موڑا گیا۔

واجپئی نے ملک کو فرسودہ سویت ماڈل سے نجات دلائی اور معیشت کو کھلی نہج پر ڈال دیا۔ پچاس برس سے بھارت کی سوئی ہوئی معیشت میں اچانک جان آگئی اور وہ ترقی کی اس شرح پر پہنچ گئی جس منزل کو وہ کبھی اپنی تاریخ میں نہیں حاصل کر سکی تھی۔

سڑکوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، بڑی بڑی عمارتوں، نئی نئی یونیورسیٹیز، تعلمیی اداروں اور صنعتی اکائیوں پر کام شروع ہوا۔ ترقی کا کچھ اثر ملک کے اکثریتی دیہی علاقوں تک بھی پہنچا۔ آزاد بھارت کی تاریخ میں پانچ برس کے اندر کبھی اتنی بڑی تبدیلیاں رونما نہیں ہوئی تھیں جتنی وزیر اعظم واجپئی کے دور اقتدار میں ہوئیں۔ بھارت پہلی بار بین اقوامی سطح پر ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پردیکھا جانے لگا۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارت کی اکثریت آبادی پینتیس برس سے کم عمر کی تھی۔ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت نے نوجوانوں میں نیا جوش و ولولہ بھر دیا۔

اٹل بہاری واجپئی

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے روایت سے انحراف کیا تھا

لیکن اس مرحلے پر ترقی کے حصول کی اپنی کوششوں میں واجپئی حکومت نے ملک کی معیشت میں کچھ ایسی تبدیلیاں لانے کی کوشش کیں جن کے لیے اس وقت کا بھارت تیار نہیں تھا۔ نتیجے میں واجپئی حکومت آئندہ انتخاب میں شکست کھا گئی۔

نو برس قبل منموہن سنگھ جب وزیر اعظم بنے تو ملک کی معیشت ایک مضبوط بنیاد پر قائم ہو چکی تھی۔ منموہن سنگھ خود ایک ماہر اقتصادیات ہیں اور انہیں اقتصادی اصلاحات کا جادوگر سمجھا جاتا تھا۔ بھارت کے ساتھ ساتھ پوری دنیا یہ سمجھی کہ ایکیسویں صدی بھارت کی صدی ہو گی۔ واجپئی حکومت کی بنائی ہوئی مضبوط بنیادوں پر منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران ملک کی معیشت غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھتی رہی۔

لیکن جب حکومت پھر وہی اپنی پرانی روش پر آگئی تو بھارت کا خواب بکھرنے کے قریب آگیا ۔ پچھلے چار برس سے مہنگائی عام لوگوں کی کمر تو ڑ چکی ہے۔ معیشت اس وقت تیزی سے زوال پر ہے۔ ترقی کی رفتار اسی سطح پر آگئی ہے جس پر وہ پندرہ برس پہلے تھی۔ مکانوں کے دام آسمان چھو رہے ہیں، سود کی شرح دنیا کی سب سے اونچی شرحوں میں ہے۔ بنیکوں سے قرض لینے کا حجم ایک برس میں ایک چوتھائی نیچے آ گیا ہے ۔ لاکھوں تعمیر شدہ مکان خریداروں کے انتظار میں پڑے ہوئے ہیں۔

جس وقت وزیر خزانہ پی چدمبرم بجٹ پیش کررہے تھے، پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر کی دوری پر ایک فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے موچی سے جب ایک ٹی وی چینل نے اس کی معاشی حالت کے بارے میں پو چھا تو اس نے جواب دیا کہ ’ہم پہلے بھی غریب تھے اب بھی ہیں اور آگے کوئی امید بھی نظر نہیں آرہی ہے۔‘

بھارت کا ہر طبقہ اس وقت مایوسی کا شکار ہے۔ وہ جوش جذبہ جو چند سال قبل معیشت کی ترقی کے ساتھ ابھرا تھا وہ پست ہوتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ گزشتہ دس برس سے بھارت کی سیاست پوری طرح معلق ہے۔ اسے جمود اور انحطاط سے نکالنے کے لیے نئے تصورات اور نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ پرانی سوچ اور روایتی سیاست کے دن اب ختم ہو چکے ہیں۔ اگر ملک کی سیاست مستقبل کا تعین کرنے کی اہل نہیں ہوگی تو مستقبل خود اپناتعین کرے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔