طالبعلم کی موت، کشمیر میں مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 11:43 GMT 16:43 PST
فائل فوٹو

کشمیر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جب کہ ملحقہ علاقوں میں ناکہ بندی کی گئی ہے

بھارتی ریاست حیدرآباد کی ایک یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم کشمیری نوجوان کی پراسرار ہلاکت کے بعد بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے کئی اضلاع میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

مدثر احمد جنوبی کشمیر کے پاری گام علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور حیدرآباد کی یونیورسٹی آف انگلش اینڈ فارن لینگوجز میں زیرِ تعلیم تھے۔

حیدرآباد کے پولیس کمشنر انوراگ شرما نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ مدثر کی لاش سنیچر کی رات ہوسٹل کے کمرے میں پنکھے سے لٹکی پائی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کیس میں کچھ نازک پہلو ہیں جن کی ہم تفتیش کر رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالب علم وسیم احمد خاصے عرصے سے مدثر کے دوست تھے اور ’کچھ روز قبل وہ لڑ پڑے اور معاملہ پراکٹر کے نوٹس میں آیا جس نے پولیس میں معاملہ درج کرا دیا۔‘

اِدھر کشمیر پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ریاست کا دفترِ داخلہ حیدر آباد کی پولیس کے ساتھ رابطے میں ہے اور مدثر کی موت کےاصل محرکات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

"اس کیس میں کچھ نازک پہلو ہیں جن کی ہم تفتیش کررہے ہیں۔"

حیدرآباد کے پولیس کمشنر انوراگ شرما

مدثر کی ہلاکت پر مظاہروں کو روکنے کے لیے ان کے آبائی ضلع پلوامہ میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ ملحقہ علاقوں میں بھی ناکہ بندی کی گئی ہے۔

واضح رہے گذشتہ ماہ افضل گورو کو پھانسی دیے جانے کے بعد بھارت کی مختلف ریاستوں کے ساتھ ساتھ حیدرآباد میں بھی کشمیری طالب علموں نے مظاہرے کیے تھے۔

پلوامہ میں مدثر کے بھائی عاشق حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ مدثر بھی ان مظاہروں میں شامل تھا۔ عاشق حسین نے الزام عائد کیا: ’میرے بھائی کو محض مسلمان ہونے کے جرم میں اس انجام تک پہنچایا گیا ہے۔‘

علیٰحدگی پسند گروپوں نے مدثر کی موت کو قتل قرار دے کر اس کے خلاف ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

گو کہ مدثر کی موت کے محرکات ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئے ہیں تاہم ماضی میں بھی کشمیری طالب علموں کو بھارت میں پولیس کی طرف سے ہراساں کرنے کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔

2006 میں اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ غلام نبی آزاد نے کانگریس کی زیرِ اقتدار 11 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو خط لکھ کر کہا تھا کہ کشمیریوں کو ہراساں نہ کیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔