کانگریس اس ملک کے لیے دیمک ہے:مودی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 13:12 GMT 18:12 PST
نریندر مودی اور راج ناتھ سنگھ

نریندر مودی اور راج ناتھ سنگھ

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے برسرِ اقتدار جماعت کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’دیمک‘ سے تعبیر کیا ہے۔

انھوں نے یہ بات بی جے پی کی قومی مجلسِ عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دلی میں کہی۔

دوسری جانب کانگریس کے بڑے رہنما اور سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایّر نے مودی کے بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک خبر رساں ادارے سے کہا کہ ’مودی نے ہمیں دیمک کہا ہے تو وہ خود سانپ ہیں، بچھو ہیں۔‘

نریندر مودی نے بی جے پی کو ایک ایسی سیاسی پارٹی کہا ہے جو ’ایک مشن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،‘ جب کہ کانگریس کی پارٹی کو انہوں نے ’کمیشن کی پارٹی‘ بتایا ہے۔ انہوں نے کہا،’ہر کام کے لیے کمیشن طے ہے۔ایک فی صد ، دو فی صد، تین فیصد۔‘

مودی کے مشن اور کمیشن والے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے منی شنکر ایر نے کہا، ’ہاں وہ مسلمانوں کو مارنے کی پارٹی ہے، اقلیتوں کو دبانے کی پارٹی ہے، اس دیش کے اتحاد کو توڑنے والی پارٹی ہے۔ یہ ایک ایسی پارٹی ہے جو ہماری مذہبی رواداری میں یقین نہیں رکھتی۔ تو کیا ہم ان کی جانب سے تعریف کی امید رکھیں؟‘

"ملک کو کانگریس کی دیمک لگی ہے، ہم جانتے ہیں کہ دیمک کو مٹانا مشکل بھرا کام ہے۔ ادھر سے ختم کرو تو ادھر آ جاتے ہیں، لیکن اس کا علاج ہے۔ ہم بی جے پی کے کارکنوں کا پسینہ اس دیمک کو ختم کر سکتا ہے"

نریندر مودی نے گجرات اسمبلی میں اپنی جیت کو شخصیت نہیں بلکہ نظریے کی جیت قرار دیا۔ انھوں نے کہا: ’گجرات کی جیت وہاں کے عوام کی فتح ہے، ملک کے لاکھوں کارکنوں کی جیت ہے اور قومی قیادت کی رہنمائی کی جیت ہے۔‘

انہوں نے کہا، ’ملک کو کانگریس کی دیمک لگی ہے، ہم جانتے ہیں کہ دیمک کو مٹانا مشکل بھرا کام ہے۔ ادھر سے ختم کرو تو ادھر آ جاتے ہیں، لیکن اس کا علاج موجود ہے۔ ہم بی جے پی کے کارکنوں کا پسینہ اس دیمک کو ختم کر سکتا ہے۔‘

مودی نے اپنی تقریر میں کانگریس کو ایک خاندان کی پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی ایک خاندان کے لیے ہر جگہ ’نائٹ واچ مین‘ بٹھاتی ہے۔ بہر حال انھوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کا نام لینے سے گریز کیا اور کہا ’اس بار رات اتنی لمبی ہوگی یہ ملک کی عوام نے سوچا نہیں تھا۔‘

"اب وقت آ گیا جب آپ فیصلہ کریں کہ آپ مشن والی پارٹی کے ساتھ ہیں یا پھر کمیشن والی پارٹی کے ساتھ۔"

نریندر مودی

مودی کے مطابق اگر پرنب مکھرجی ملک کے وزیرِاعظم ہوتے تو اتنی مشکلات نہ ہوتیں، لیکن گاندھی خاندان کی وجہ سے ہی پرنب مکھرجی کو وزیر اعظم نہیں بننے دیا گیا۔

انھوں نے کہا، ’اب وقت آ گیا جب آپ فیصلہ کریں کہ آپ مشن والی پارٹی کے ساتھ ہیں یا پھر کمیشن والی پارٹی کے ساتھ۔‘

مودی نے یہ بھی کہا کہ’ کانگریس کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنا آزادی کی لڑائی جتنا ہی اہم کام ہے اور اس کے لیے ہر کسی کو آگے آ کر تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا، ’اندھیرا بہت گھنا ہے، لیکن دیا جلانا کہاں منع ہے۔‘

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔