خواجہ جی کچھ کیجیے!

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 مارچ 2013 ,‭ 17:24 GMT 22:24 PST
راجہ پرویز اشرف اجمیر میں

پاکستان کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے ذاتی دورے کے بارے میں جب ایک صحافی نے بھارتی بری فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ سے سوال کیا کہ اس دورے کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے تو انہوں نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ یہ سیاسی فیصلہ ہوتا ہے اور اس کے بارے میں ان کا کچھ کہنا مناسب نہیں ہے۔

چونکہ وہ ذاتی دورے پر آئے تھے اور اس کی نوعیت بھی مذہبی عقیدت سے تعلق رکھتی تھی اس لیے بھارتی حکومت نے موجودہ سرد مہری کے ماحول کی مناسبت سے اپنی طرف سے بھی اسے خاصا ہلکا رکھنے کی کوشش کی۔

گذشتہ جنوری میں بھارت پاکستان کے درمیان ایل او سی پر دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت اور ان کی لاشوں کی مبینہ بے حرمتی کے واقعے پر بھارت میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ حالات اتنے خراب ہو گئے کہ حکومت نے امن اور اعتماد بحالی کے سارے اقدامات معطل کردیے اور بہتر ہوتے ہوئے رشتے اسی مقام پر پہنچ گئے جہاں سے شروع ہوئے تھے۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے جب اپنے ذاتی دورے کا اعلان کیا تو تعلقات خراب ہونے کے باوجود کسی حلقے کی طرف سے بھی ان کے دورے کی مخالفت نہیں ہو ئی اور نہ ہی کسی نے کو ئی سوال اٹھایا۔ بھارتی میڈیا بھی ابتدائی طور پر اپنے روایتی ہسٹیریائی تبصرے سے باز رہا۔

لیکن اس بار پاکستانی رہنما کی مخالفت اس دیار سے آئی جس کی زیارت کے لیے وہ آئے تھے۔ خواجہ کی درگاہ کے ایک متولی نے کہا کہ وزیر اعظم راجہ اشرف بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے لیے معافی مانگیں۔

اجمیر درگاہ کے متولی

اجمیر درگاہ کے متولی نے راجہ پرویز کی آمد کی مخالفت کی

یہی نہیں درگاہ کے متولی نے پاکستان میں اقلیتوں کی تکلیف دہ صورتحال پر بھی تبصرہ کیا اور ان کی حالت بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت سے ملک میں زبردست غم و غصہ ہے اور اگر پاکستان اس کے لیے معافی نہیں مانگتا تو وہ راجہ اشرف کا درگاہ میں وہ خیر مقدم نہیں کریں گے۔

درگاہیں اور صوفیا ماضی میں بادشاہوں کے دور میں اکثر سیاست میں دخل دیا کرتے تھے۔ کئی صوفیا تو بادشاہوں کے لیے خطرہ بھی بن جایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں بظاہر دنیاوی معاملات سے بالاتر ہوتے ہوئے بھی صوفیا کسی نہ کسی شکل میں عصری سیاست سے وابستہ ہوا کرتے تھے۔

لیکن اِس دور میں کسی درگاہ بالخصوص خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے متولی کا یہ قوم پرستانہ بیان یقینا دلچسپ ہے۔

گیروے لباس اور گیروے ہی رنگ کی پگڑی پہنے ہوئے متولی زین العابدین چشتی یہ بیان دے کر کیا کوئی سیاسی پیغام دینا چاہتے تھے یا ان کا یہ بیان بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی قوم پرستی کے درمیان مسلمان ہونے کے دباؤ کا عکاس ہے؟ یا پھر کہیں یہ اعتماد اور شناخت کے بحران کا مسئلہ تو نہیں؟

یہ بھی ممکن ہے کہ درگاہ کے متولی نے وقت کی نبض کو اچھی طرح سمجھ کر ایک نپا تلا وار کیا ہو۔ حقیقت جو بھی ہو، متولی نے بڑے صحیح وقت پر چوٹ ماری ہے۔

ابھی تک دوا فروش سادھو، دعا اور تعویذ بیچنے والے کئی علما اور مذہبی رہنما تو سیاست میں سرگرم تھے ہی اب درگاہوں کے متولیان اور سجادہ نشین بھی سیاست میں اترنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔