پولیس کیمپ پر حملے کے بعد وادی میں کرفیو

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 09:34 GMT 14:34 PST
کشمیر

افضل گورو کی لاش کو کشمیر لائے جانے کے مطالبے پر تحریک جاری ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے گرمائی درالحکومت سرینگر میں پولیس کے کیمپ پر حملے کے بعد وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

بدھ کو بیمینا کے علاقے میں ہونے والے اس حملے میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے پانچ اہلکار اور دو حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔

کلِک سری نگر میں کیمپ پر حملہ: تصاویر میں

یہ گذشتہ تین برس میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والا پہلا بڑا حملہ ہے۔

جموں و کشمیر میں گذشتہ کچھ عرصے سے دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے مرتکب افضل گورو کی لاش کو کشمیر لائے جانے کے مطالبے پر تحریک جاری ہے۔

جمعرات کو حملے کے اگلے دن وادی میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور بیشتر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بھارتی فوج کے ہزاروں اہلکار سنسان قصبوں کی گلیوں پر گشت کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے سرحد پار کر کے آنے والے شدت پسند اس حملے کے ذمہ دار تھے۔

بھارت کے سیکرٹری داخلہ آر کے سنگھ نے اس حملے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے کی پشت پر پاکستان ہے کیونکہ بظاہر شواہد اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’بادی النظر میں یہ شدت پسند سرحد پار سے آئے تھے۔ شاید وہ پاکستان سے آئے تھے۔ ہمیں یہ اطلاعات تھیں کہ چار شدت پسند داخل ہوئے۔ ان میں سے دو کو ہلاک کر دیا گیا‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جو دو شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوئے وہ بھی مبینہ طور پر پاکستان سے آئے تھے۔ ان چاروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے‘۔

پاکستان نے بھارت کے اس الزام کو رد کر دیا ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس نے اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور بھارتی حکومت سے درخواست کرتا ہے کہ وہ پاکستان کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دینے سے پہلے اس کی مکمل تفتیش کرے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔