کیا بھارت نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 مارچ 2013 ,‭ 02:11 GMT 07:11 PST

اطالوی سفیر نے فوجیوں کی واپسی کی یقین دہانی کرائی تھی

بھارت اور اٹلی کے درمیان فوجیوں کی واپسی کے معاملے پر پیچ دار تنازع سفارتی قوانین کو نامعلوم سمت میں لے کر جا رہا ہے جہاں بھارت کے دیگر یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

بھارت نے اٹلی پر ناقابل قبول رویے کا الزام لگاتے ہوئے اٹلی کے سفیر کو ملک نہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

اٹلی کی جانب سے بھارت میں قتل کے الزام کا سامنا کرنے والے دو اطالوی فوجیوں کو واپس بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے دلی میں یورپی یونین کے سفیر کو بھی بلایا ہے۔

جب دو ریاستوں کے تعلقات منقطع ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں سفارتی بے دخلی عام بات ہے لیکن اس میں سفارت کاروں کو حراست میں لینا نہیں ہوتا، جس میں یرغمال بنائے جانے کے بحران کی یاد آتی ہے۔

ابھی تک کوئی اتنی دور نہیں کیا گیا ہے لیکن اس ہنگامے کو دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بھارت کے اقدام نے اسے سفارت کاروں کو حاصل عالمی تحفظ سے متعلق ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور یہاں تک کہ اس نے بیرن ملک تعینات اپنے سفیروں کے لیے ایک خطرناک مثال پیدا کر دی ہے۔

ویانا کنونش کے مطابق سفارت کاروں کو دوسرے ممالک میں استثنیٰ حاصل ہوتی ہے اور انہیں کسی بھی شکل میں گرفتار اور حراست میں نہیں لیا جا سکتا ہے۔

ایک خطرناک مثال

ابھی تک کوئی اتنی دور نہیں کیا گیا ہے لیکن اس ہنگامے کو دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بھارت کے اقدام نے اسے سفارت کاروں کو حاصل عالمی تحفظ سے متعلق ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور یہاں تک کہ اس نے بیرن ملک تعینات اپنے سفیروں کے لیے ایک خطرناک مثال پیدا کر دی ہے۔

دلی میں ایک غیر ملکی سفارت خانے کے ایک اہلکار کے مطابق میزبان ملک کی بجائے یہ سفارت کاروں یا ان کے ملک پر منحصر ہوتا ہے کہ سفارتی تحفظ کو رد یا اس کو طلب کرتے ہیں۔

برہم بھارتی میڈیا اس معاملے کے پیچھے ہے اور قتل ہونے والی بھارتی ماہی گیروں کے اہلخانہ انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اس صورت میں بھارتی حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ سخت اقدام اٹھائے۔

اس پر الزام ہے کہ اس نے کمزوری دیکھائی اور سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اطالوی فوجیوں کو جانے دیا۔

تاہم بھارت کی وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت کے مطابق اٹلی کی جانب سے یہ جھگڑا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر کے شروع کیا گیا۔

بھارت میں حکمران جماعت کانگرس کی سربراہ سونیا گاندھی کا تعلق بھی اٹلی سے ہے اور اسی وجہ سے انہیں بھی اس تنازع میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ کنور سبال کا کہنا ہے کہ اس سے فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ دونوں فوجیوں کی وطن واپسی پر اطالوی وزیراعظم نے ان کا ایک ہیرو کی طرح استقبال کیا۔

جمعرات کو بریفنگ کے دوران بھارت کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے اس رائے کو رد کیا کہ بھارت ویانا کنونش کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے ہی دونوں ملزمان فوجیوں کو فروری میں چار ہفتے کے لیے اپنے ملک جانے کی اجازت دی تھی

تاہم کنور سبال کا کہنا ہے کہ اٹلی کے سفیر ڈینیل مچني نے پہلے فوجیوں کی واپسی کی یقین دہانی کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر ایک مثال قائم کی اور ایسا کر کے انہوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو بھارت کے عدالتی عمل کا تابع کر دیا اور یہ واضح نہیں کہ آیا بین الاقوامی قوانین کے وکیل اس تشریح سے اتفاق کرتے ہیں۔

لیکن روم اپنے فوجیوں کو واپس بھیجنے سے انکار کر رہا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ ماہی گیروں کو ہلاک کرنے کا واقعہ بین الاقوامی سمندر میں پیش آیا اور یہ بھارت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

ایک مغربی سفارت کار کے مطابق’ اگر اطالوی سفیر نے دلی کے اندرا گاندھی ائیر پورٹ سے واپس جانے کی کوشش کی تو کیا ہو گا، کیا وہ انہیں روک دیں گے اور اس کے بعد کیا ہو گا؟‘

اس تنازع کی وجہ سے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کے بارے میں جاری بات چیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

اٹلی پہلے ہی برسلز میں دیگر یورپی ممالک کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ کر رہا ہے اور واضح طور پر چاہتا ہے کہ اس کے موقف کو تقویت ملے۔

تاہم کنور سبال کے مطابق’اگر اٹلی یہاں اپنے طویل المدت مفادات کا خیال کرتا ہے تو اس سے معلوم ہو گا کہ یہ ایک بڑی غلطی تھی۔‘

خیال رہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے اطالوی فوجیوں کے معاملے میں ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے بھارت میں اٹلی کے سفیر ڈینیل مچني کو ملک نہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سلمان خورشید نے دلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’اس معاملے میں قدم اٹھانے سے پہلے اٹلی اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات کے کئی پہلوؤں پر نظر رکھنا ہوگا لیکن بھارت کے لوگوں کے جذبات سب سے زیادہ اہم ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔