بھارتی پارلیمان میں پاکستانی قرارداد کی مذمت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 مارچ 2013 ,‭ 10:08 GMT 15:08 PST

بھارتی پارلیمان نے پاکستان کے خلاف متفقہ طور پر قرارداد منظور کی ہے

بھارتی پارلیمان نے افضل گورو کی پھانسی سے متعلق پاکستانی پارلیمان کی قرارداد کی اتفاق رائے سے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے مسترد کر دیا ہے۔

بھارتی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا میں پارلیمانی امور کے وزیر نے کمل ناتھ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا، ’پاکستان کی پارلیمان نے جو قرارداد منظور کی ہے اس پر ہم سبھی کو تشویش ہے۔‘

اسی دوران دونوں ملکوں بھارتی وزارتِ خارجہ نے پاکستان اور بھارت کی ہاکی ٹیموں کے درمیان ہونے والی سیریز کو منسوخ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

قرارداد کو منظور کرتے ہوئے لوک سبھا کی سپیکر میرا کمار نے اسے پڑھ کر سنایا۔

ان کا کہنا تھا، ’یہ ایوان 14 مارچ 2013 کو پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد کو پوری طرح مسترد کرتا ہے۔ ایوان کا خیال ہے کہ پاکستان نے وعدہ کیا ہے کہ اس کی سرزمین بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کی جائے گي اور اس وعدے کو وفا کرنا ہی پاکستان کے ساتھ پر امن تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’ایوان بھارت کے داخلی امور میں مداخلت کو پوری طرح مسترد کرتا ہے اور پاکستان کی قومی اسمبلی سے شدت پسندوں اور دہشت گردوں جیسے عناصر کی حمایت کرنے جیسے فعل سے باز رہنے کو کہتا ہے۔‘

میرا کمار نے کہا، ’ایوان پھر سے تاکید کرتا ہے کہ جموں کشمیر کی پوری ریاست، بشمول اس خطے پر جس پر پاکستان غیر قانونی طور پر قابض ہے، بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ کے لیے رہے گا۔ بھارت کے داخلی امور میں کسی بھی جانب سے مداخلت کی کوشش کو متحد قوم کی حیثیت سے سخت جواب دیا جائے گا۔‘

"جموں کشمیر کی پوری ریاست، بشمول اس خطے پر جس پر پاکستان غیر قانونی طور پر قابض ہے، بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ کے لیے رہیگا بھی۔ بھارت کے داخلی امور میں کسی بھی جانب سے مداخلت کی کوشش کو متحد قوم کی حیثیت سے سخت جواب دیا جائے گا۔"

بھارتی لوک سبھا

واضح رہے کہ پاکستان کی قومی اسبملی نے افضل گورو کی پھانسی کے خلاف جمعرات کو قرارداد منظور کی تھی جس کے خلاف بھارت میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے اور اس کے جواب میں ہی بھارت نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے۔

اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے پاکستانی پارلیمان کی قرارداد کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان سے تمام تعلقات منقطع کر لے۔

حکومت نے دباؤ میں آئندہ ماہ پاکستان کے ساتھ ہونے والی ہاکی سیریز کو پہلے منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

کئی برسوں بعد بھارت نے ہاکی سیریز شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لیے پاکستانی ٹیم کو بھارت کا دورہ کرنا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان پانچ اپریل سے 15 اپریل کے درمیان پانچ میچوں کی سیریز ہونی طے تھی لیکن وزارت خارجہ نے اسے منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق وزارتِ خارجہ نے ہاکی انڈیا سے سیریز منسوخ کرنے کے لیے ایک فیکس بھیجا ہے۔

اس کے مطابق ’وزارتِ خارجہ نے گذشتہ روز ہی فیکس کر کے بتایا تھا کہ وہ پاکستانی ٹیم کی میزبانی نہ کریں اور نہ ہی پاکستان کا دورہ کریں۔‘

دونوں ملکوں نے فیصلہ کیا تھا کہ پاکستانی دورے کے بعد بھارتی ٹیم 23 اپریل سے پاکستان کا دورہ کرے گی اور وہاں پانچ میچ کھیلے گي۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔