ریپ کے واقعے کے بعد کتنی بدلی ہے دلی؟

آخری وقت اشاعت:  پير 18 مارچ 2013 ,‭ 09:48 GMT 14:48 PST
جنسی طور پر ہراساں خاتون

اعدادو شمار کے مطابق ہر روز دارالحکومت دلّی میں اوسطا چار خواتین جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں

بھارتی دارالحکومت دلّی میں ایک 23 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی ریپ کے بعد ہونے والے مظاہروں کے باوجود خواتین کے تئیں دلّی پولیس کے رویے میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟

کیا اب بھی چھیڑ چھاڑ کے واقعات کے لیے متاثرہ خاتون پر ہی شبہ کیا جا رہا ہے اور جنسی تشدد کی دھمکی کو غیر ضروری سمجھا جا رہا ہے؟

حال ہی میں بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے دلی میں ہر روز عصمت دری کے چار واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

اس پر دلّی پولیس کا کہنا تھا کہ یہ قانونی نظام کےخراب ہونے کی نہیں، بلکہ خواتین کے آگے آ کر شکایت درج کرانے کی وجہ سے ہے۔

دلّی گینگ کے واقعے کے تین ماہ بعد بی بی سی ہندی کی نامہ نگار دیویہ آریہ نے کچھ متاثرین سے مل کر اس بابت جاننے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ دن قبل تک اپنے سسرال، میکے اور مالکن کی مرضی کے خلاف جرات مندانہ قدم اٹھاکر قانون سے مدد مانگنے نکلی راکھی اب پریشان مایوس اور خوفزدہ ہیں۔

دو ماہ تک ایک آدمی کے ذریعے تعاقب کیے جانے، فحش فون کیے جانے اور تیزاب پھینکے جانے کی دھمکیوں سے تنگ آ کر راکھی اسی سال جنوری میں پولیس کے پاس گئیں۔

"جس طرح سے لوگوں نے مظاہرہ کیا، عام طور پر جنسی تشدد کے جرائم کے خلاف اپنی آواز اٹھائی، اس سے عورتوں کو طاقت ملی ہے، اب وہ تشدد سہنے کے بجائے، ہمت کا مظاہرہ کر اپنی شکایت درج کرانا چاہتی ہیں"

گریما

لیکن راکھی کے مطابق خواتین کی حفاظت کے تمام دعوے کرنے والی پولیس نے ان کی شکایت پر غور کرنے کے بجائے ان سے ہی تفتیش شروع کر دی۔

راکھی نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھ سے پوچھا گیا کہ میں اسے کس طرح جانتی ہوں، وہ میرے ہی پیچھے کیوں تھا، تو میں نے پولیس سے کہا یہ سوال اس سے جا کر پوچھئے نا۔‘

جنوری میں خواتین سے متعلق تشدد کے معاملات پر نظر رکھنے کے لیے سدھیر یادو کو دلّی پولیس میں سپیشل کمشنر مقرر کیا گیا۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ کہنا غلط ہوگا کہ پولیس کے غلط رویے کی وجہ سے کسی خاتون کی شکایت ٹھیک سے نہ سنی گئی ہو، یہ ہو سکتا ہے کہ خاتون کی خواہش کے مطابق کارروائی نہ کی گئی ہو کیونکہ قانونی طور پر اس کی شکایت کے لیے وہ ضروری نہیں تھا۔‘

سدھیر یادو نے یہ بھی بتایا کہ دسمبر کے واقعہ کے بعد پولیس کو خاص طور پر تمام خواتین کی شکایات پر غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خواتین آسانی سے شکایت کر سکیں، اس کے لیے ہیلپ لائن شروع کی گئی ہے اور سڑکوں پر گشت کرنے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔

ظاہر ہے گزشتہ تین مہینوں میں دہلی کی سڑکوں پر لگائے گئے نعروں کا اثر ہوا ہے لیکن راکھی کا الزام ہے کہ تھانے کے تین چکر لگانے پر بھی ان کی شکایت محض کاغذی کاروائی ہی رہی۔

پندرہ دن بعد جب ایک خاتون کارکن نے علاقے کے ڈي سي پي سے بات کی تو ایف آئی آر لکھی گئی، ملزم لڑکا گرفتار ہوا اور فورا ہی ضمانت پر رہا بھی۔

دلی پولیس

دسمبر کے واقعہ کے بعد پولیس کو خاص طور پر تمام خواتین کی شکایات پر غور کرنے کا حکم دیا گیا ہے

راکھی کے مطابق پولیس تھانے کے بار بار چکر لگانے سے ان کی نوکری چلی گئی اور پولیس والوں کے ان کے گھر آمد سے بدنامی ہوئی۔

راکھی کہتی ہیں: ’میں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکی، پولیس کے پاس جانے کا سارا نقصان مجھے ہی ہوا، اب اپنی بیٹیوں کی فکر مسلسل لگی رہتی ہے، میری ساس نے طے کر لیا ہے کہ ہم اس علاقے میں رہنا چھوڑ دیں گے۔‘

راکھی جیسی کہانی کئی خواتین کی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ جب ایسے حالات ہیں تو ان تمام خواتین نے پولیس کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

گزشتہ 10 سالوں سے دلّی خواتین کمیشن کے ایک پروگرام کے تحت کام کر رہی گریما، عصمت دری کا شکار ہوئی خواتین کی كاؤنسلنگ کرتی ہیں۔ اس کے تحت وہ متاثرہ خواتین کو ذہنی طور پر مضبوط بنانے، ان کے خاندان سے بات کرنے اور ان کو ان کے قانونی حقوق کے بارے میں بتانے جیسی مدد دیتی ہیں۔

گزشتہ تین مہینوں میں گریما کے پاس آنے والی خواتین کی تعداد دوگنی ہو گئی ہیں۔

گریما کہتی ہیں: ’جس طرح سے لوگوں نے مظاہرہ کیا، عام طور پر جنسی تشدد کے جرائم کے خلاف اپنی آواز اٹھائی، اس سے عورتوں کو طاقت ملی ہے، اب وہ تشدد سہنے کے بجائے، ہمت کا مظاہرہ کر اپنی شکایت درج کرانا چاہتی ہیں۔‘

گریما کے مطابق عصمت دری ہی نہیں، جنسی تشدد کے تمام واقعات میں اب خواتین سامنے آنے لگی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔