بھارت: شدت پسند کوگرفتار کرنےکا دعویٰ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 12:04 GMT 17:04 PST

پولیس کو اس معاملے میں ایک اور شخص کی تلاش ہے

بھارت میں پولیس حکام نے ایک شدت پسند کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا کہ اس سے دارالحکومت دلی میں دہشت گردی کے ایک منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

دلی میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اس نے کچھ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی بر آمد کیا ہے۔

گرفتار کیے گئے شخص لیاقت علی کا تعلق کشمیر سے ہے۔ کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کوئي اہم کیس درج نہیں ہے۔

دلی پولیس کے ایک بیان کے مطابق دو روز قبل ریاست یو پی میں نیپال سرحد پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان سے پوگچھ کے بعد دلی میں جامع مسجد کے پاس ایک گیسٹ ہا‎ؤس پر چھاپہ مارا گيا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس گيسٹ ہاؤس کے ایک کمرے سے اے کے 47، گرینیڈ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔

حکام کے مطابق ہوٹل کا کمرہ بک کرنے والا شخص لا پتہ ہے اور یہ اس بات کی چھان بین کی کوشش کی جارہی ہے کہ آخر وہ کون ہوسکتا ہے۔

پولیس کے مطابق دلی میں ہولی کے موقع پر دہشتگردی کا منصوبہ بنایا گيا تھا جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

لیاقت علی، جنہیں یو پی سے گرفتار کیا گيا ہے، کو پولیس نے حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والا شدت پسند بتایا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ انہیں کے لیے ہوٹل میں دھماکہ خیز مواد رکھا تھا۔

لیکن بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی بھی خبریں نشر کی جارہی ہیں کہ جس شخص کو گرفتار کیا گيا ہے ممکن ہے کہ وہ شدت پسندی ترک کرکے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے نیپال کے راستے سے بھارت واپس آرہے تھے۔

امکان اس بات کا ہے کہ انہیں غلط شناخت کے سبب گرفتار کیا گیا ہو۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر سے ملنے الی اطلاعات کے مطابق لیاقت کا تعلق کپوارا سے ہے اور وہ سرحد پار کر گئے تھے لیکن اس کے علاوہ ان کے خلاف دہشت گردی کا کوئی کیس درج نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔