’امید ہے کہ قبل از وقت الیکشن نہیں ہوں گے‘

منموہن سنگھ
Image caption منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ اتحادی جماعتوں کی بھی اپنی مجبوریاں ہوتی ہے

بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے ان امکانات کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کی اتحادی جماعت ڈی ایم کے کے حکومت کا ساتھ چھوڑنے کے بعد ان کی حکومت کو خطرہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ملک میں انتخابات آئندہ برس اپنے طے وقت پر ہوں گے۔

واضح رہے کہ جنوبی بھارت کی اہم جماعت اور حکومت کی اتحادی ڈی ایم کے نے حال ہی حکمراں یو پی اے سے اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ حکومت کو خطرہ ہو سکتا ہے لیکن ابھی بھی حکومت کو دو سو اسی ممبران پارلیمان کی حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ اقتدار قائم رکھنے کے لیے حکومت کو دو سو اکہتر ارکان کی ضرورت ہے۔

ڈی ایم کے نے سری لنکا میں تمل افراد کے خلاف ہونے والی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارتی حکومت کی جانب سے مذمت نہ کرنے کے مسئلے پر اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل ستمبر میں حکومت کی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس نے اپنی حمایت واپس لے لی تھی اور اب سماج وادی پارٹی کی جانب سے حکومت پر تنقید کے بعد اس بات کے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اترپردیش کی حکمراں جماعت بھی حکومت سے ناراض ہے اور وہ کسی بھی وقت حکومت سے اپنی حمایت واپس لینے کا اعلان کرسکتی ہے۔

برکس کے اجلاس میں ڈربن سے واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا ’یہ سچ ہے کہ اکثر اتحادیوں سے متعلق مسائل کو دیکھ کر لگتا ہے حکومت مستحکم نہیں ہے۔ اس لیے میں وقت سے پہلے انتخابات کی بات سے پوری طرح انکار تو نہیں کر سکتا لیکن مجھے پوری امید ہے کہ ہماری سرکار اپنی مدت مکمل کرے گی اور انتخابات وقت پر ہی ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں اصلاح کا کام جاری رکھے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اتحادیوں کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ ہم ان مجبوریوں کو اصلاح کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔‘

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سماج وادی پارٹی کے ملائم سنگھ یادو آئندہ انتخابات میں ایک بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں اس لیے وہ بار بار کانگریس پارٹی اور موجودہ حکومت پر تنقید کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دن قبل ملائم سنگھ یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر لال کرشن اڈوانی کی تعریف کی تھی اور وہ بہار کے وزیراعلی نتیش کمار کی جانب بھی دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ آئندہ انتخابات سے پہلے ایک نئے اتحاد کی تیاری کی کوشش ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں