اطالوی سفارتکار پر عائد پابندی کا خاتمہ

ڈینیئل مینچینی
Image caption ڈینیئل مینچینی پر بھارت نہ چھوڑنے کی پابندی ختم

بھارت میں دو اطالوی فوجیوں پر قتل کے الزامات کے متنازع معاملے کے سلسلے میں ملک کی سپریم کورٹ نے اطالوی سفارتکار کے بھارت چھوڑنے پر عائد پابند ختم کردی ہے۔

سپریم کورٹ نے اطالوی سفارت کار ڈینیئل مینچینی کے بھارت چھوڑنے پر اس وقت پابندی عائد کی تھی جب اٹلی کی حکومت نے ان دو فوجیوں کو بھارت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا جن پر دو بھارتی ماہی گیروں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔

دونوں اطالوی فوجی حال میں جب وطن واپس گئے تھے تو اٹلی کی حکومت نے ان فوجیوں کو واپس بھارت بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

اٹلی کے اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے لیکن بھارت کی جانب سے اٹلی کو بعض یقین دہانیوں کے بعد دونوں فوجی بائیس مارچ کو اٹلی کے فوجی طیارے میں دوبارہ بھارت آ گئے تھے۔

گذشتہ ہفتے بھارت نے اطالوی فوجیوں پر قائم مقدمے کی سماعت کے لیے ایک خصوصی عدالت قائم کی تھی۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس مقدمے کی آئندہ سماعت سولہ اپریل کو ہوگی۔

اس سے قبل اٹلی نے بھارت پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس کے سفیر کو ملک چھوڑنے سے روک کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اٹلی کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ یہ سفارتی تعلقات کے بارے میں ویانا کنونشن کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہے۔

ان فوجیوں کو وطن واپس جانے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ وہ انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں، اور اس کے بعد آ کر مقدمے کا سامنا کریں۔

مینچینی نے ذاتی یقین دہانی کروائی تھی کہ دونوں فوجی عدالتی حکم کے مطابق چار ہفتوں کے اندر اندر واپس آ جائیں گے۔ لیکن جب اٹلی کی حکومت نے انہیں دوبارہ واپس نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو بھارتی سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کے بعد اٹلی کے سفیر کو ملک نہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ بھارت کے جنوبی شہر کوچی کے سمندری ساحل پر اطالوی تیل بردار ٹینکر کی نگرانی کرنے والے دو اطالوی فوجیوں نے بھارتی ماہی گیروں کو بحری قزاق سمجھ کر ان پر گولی چلا دی تھی۔

اس حادثے میں دو ماہی گیر ہلاک ہوئے تھے اور ان دونوں اطالویوں کوگذشتہ برس حراست میں لیا گیا تھا۔

اٹلی کا موقوف ہے کہ چونکہ یہ واقعہ عالمی سمندر میں پیش آیا تھا اس لیے کیس کی سماعت اٹلی میں ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں