بھارتی کمپنی پر ایک ارب روپے کا جرمانہ

Image caption سٹرلائٹ کا جنوبی صوبے تمل ناڈو میں کانسی بنانے کا پلانٹ ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر برطانوی کمپنی ویدانتا کی ذیلی کمپنی سٹرلائٹ پر ایک ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

سٹرلائٹ کا ریاست تمل ناڈو کے ٹوٹی کرن علاقے میں تانبا بنانے کا پلانٹ ہے جس کے خلاف الزام ہے کہ اس پلانٹ سے ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

سپریم کورٹ نے پلانٹ بند کرنے کا حکم تو نہیں دیا لیکن یہ کہا ہے کہ مستقبل میں ماحولیات سے متعلق خلاف ورزیاں نہ ہو اس کے لیے کمپنی آئندہ پانچ برسوں میں ایک ارب روپے بطورِ جرمانہ ادا کرے۔

اس سے قبل مدراس ہائی کورٹ نے اس پلانٹ کو بند کرنے حکم دیا تھا۔ عدالت میں جو مقدمہ درج کیا گیا تھا اس میں کہا گیا تھا اس پلانٹ سے علاقے کی فضا اور پینے کا پانی آلودہ ہو رہا ہے اور اس سے وہاں کے لوگوں کی صحت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے سٹرلائٹ کا پلانٹ بند کرنے کے لیے نہیں کہا ہے لیکن اس پر جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

مدراس ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ 2010 میں آیا تھا لیکن تب سپریم کورٹ نے کمپنی کو عبوری سہولت دیتے ہوئے پلانٹ کو جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

سٹر لائٹ کا موقف ہے کہ وہ عالمی معیار کی ایسی ٹیکنالوجی استمعال کرتی ہے جس سے ماحولیات پر منفی اثر نہیں پڑتا۔

کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق سٹرلائٹ پہلی بھارتی کمپنی ہے جو نیویارک سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ ہے۔ کمپنی بھارت کے ساتھ آسٹریلیا میں بھی کان کنی کرتی ہے۔

اسی بارے میں