تین پولیس اہلکاروں کو پھانسی کی سزا

Image caption پولیس اہلکاروں نے رنجش کے سبب اپنے ہی افسر کو فرضی تصادم میں ہلاک کر دیا تھا

بھارتی ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی ایک خصوصی عدالت نے فرضی انکاؤنٹر کے معاملے میں تین پولیس اہلکاروں کو پھانسی اور پانچ دیگر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

لکھنؤ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ معاملہ پولیس افسر كے پي سنگھ سے منسلک ہے جو مارچ 1982 میں ضلع گونڈاکے کے ایک گاؤں مادھوپور ہلاک ہوگئے تھے۔

جن پولیس والوں کو سزا سنائی گئی ہے ان کا دعویٰ تھا کہ كے پي سنگھ گاؤں میں چھپے ڈاکوؤں کے ساتھ ہوئی فائرنگ میں مارے گئے تھے۔ لیکن ان کی بیوی کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر کو ایک جونیئر افسر نے فرضی انکاؤنٹر میں قتل کیا تھا۔

سی بی آئی کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ سنگھ کو ان کے ایک جونیئر اہلکار آر بي سروج نے مارا تھا۔ سروج سمیت تین دیگر ملزمان کو عدالت نے پھانسی کی سنائی ہے۔

سی بی آئی نےاپنی تفتیش کی بنیاد پر کہا کہ فرضی انکاؤنٹر دکھانے کے لیے پولیس والوں نے 12 گاؤں والوں کو بھی گھر سے نکال کر گولی مار دی تھی۔

پھانسی کی سزا پانے والوں میں سروج کے علاوہ رام نائيك پانڈے اور کانسٹیبل رام کرن شامل ہیں۔ سروج اس وقت تھانہ انچارج تھے۔

رامنايك پانڈے جون پور میں سب انسپکٹر ہیں۔ عدالت نے 29 مارچ کو ان پولیس اہلکاروں کو مجرم قرار دیا تھا۔

کُل 19 پولیس اہلکاروں کو اس معاملے میں ملزم بنایا گیا تھا جن میں سے 10 کی موت ہو چکی ہے جبکہ ایک کو عدالت نے بری کر دیا تھا۔

اسی بارے میں