کشمیر میں برطانوی خاتون کا ساتھی گرفتار

Image caption کشمیر میں پہلے سے تناؤ کی شکار سیاحت کی صنعت کے لیے یہ واقعہ ایک دھچکہ سمجھا جا رہا ہے

بھارت کے زیراتنظام کشمیر میں پولیس حکام کے مطابق برطانوی خاتون کے مبینہ ساتھی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

چوبیس سالہ برطانوی سیاح سارا ایلزبتھ اپنے ساتھی ریچرڑ کلیپر ڈی وِٹ کے ہمراہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی سیر پر آئی تھیں۔

انہیں بعد میں گنڈ کے قریب گرفتار کیا گیا۔ریچرڑ اور ہاؤس بوٹ کے مالک عبدالرحیم سے پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

سرینگر سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بارہ سال قبل بھی ہالینڈ کے دو سیاحوں کو سرینگر کی ایک شاہراہ پر مردہ حالت میں پایا گیا تھا، لیکن پچھلے بیس سال میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں کسی مغربی شہری نے اپنی کی معشوقہ کو قتل کر ڈالا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ہالینڈ کے شہری کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور سارا کی لاش کو لندن روانہ کرنے کے لیے برطانوی سفارتخانے سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

کشمیر میں پہلے سے تناؤ کی شکار سیاحت کی صنعت کے لیے یہ واقعہ ایک دھچکہ سمجھا جا رہا ہے۔

واضح رہے اس سال جنوری سے اب تک ایک لاکھ پچیس ہزار سیاح کشمیر آئے ہیں جن میں دس ہزار غیر ملکی سیاح شامل ہیں۔

اس سال فروری میں افضل گورو کو پھانسی دیے جانے کے بعد وادی میں کشیدگی پیدا ہوگئی اورمظاہرین پر فائرنگ کے واقعات میں پانچ نوجوان مارے گئے۔

کئی ہفتوں تک ہڑتالوں اور کرفیو کا سلسلہ جاری رہا۔ سیاحت کی صنعت سے جڑے تاجروں کو تشویش تھی کہ کشیدگی کی وجہ سے اس سال غیر ملکی سیاح کشمیر کا رُخ نہیں کریں گے۔ مغربی ممالک کی طرف سے اپنے شہریوں کو کشمیر نہ جانے کی تلقین کے باوجود کافی تعداد میں غیر ملکی سیاح کشمیر آ رہے ہیں۔

اسی بارے میں