کشمیر: برطانوی خاتون کی ہلاکت کی تحقیقات

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں پولیس ایک ولندیزی شہری سے ایک برطانوی خاتون کی ہلاکت کے حوالے سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

ان برطانوی خاتون کو سیرینگر میں ایک کشتی میں بنے گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔

برطانیہ کے علاقے گرنزی سے تعلق رکھنے والی سارہ گرووز کو چھریوں کے وار کر کے ہلاک کیا گیا۔

پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان خاتون کو شاید جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کیا گیا مگر اس بارے میں ابھی تک کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی ہے۔

حراست میں لیے گئے شخص کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ ہے اور وہ جمعرات کو اسی کشتی والے گھر میں رہنے کے لیے پہنچے جہاں مس گرووز دو ماہ سے قیام پذیر تھیں۔

برطانوی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کو ان کی ہلاکت کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے اور دفترِ خارجہ اس معاملے کی تحقیقات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

اسی طرح دہلی میں برطانوی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان سے معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس عبدالغنی میر کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والا شخص رات کے وقت کشتی میں اپنا سازوسامان چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا۔

Image caption بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیاح اکثر ان کشتی نما گھروں کو رہائش کے لیے کرائے پر حاصل کرتے ہیں۔

عبدالغنی میر نے کہا کہ ’یہاں ایک بوٹ ہاؤس میں دو افراد قیام پذیر تھے جن میں سے ایک برطانوی شہری تھیں جو ایک ماہ کے قریب عرصے سے اس میں قیام پذیر تھیں جبکہ دوسرے ایک چالیس سالہ ولندیزی شخص تھے جنہیں وادی سے صرف اپنے پاسپورٹ کے ساتھ فرار ہوتے ہوئے ہم نے حراست میں لیے لیا۔‘

انہیں سرینگر سے پچھتر کلومیٹر دور قاضی گند کے علاقے میں گرفتار کیا گیا۔

اس کشتی کے مالک نے بھارتی ٹی وی چینل کو بتایا کہ یہ خاتون ان کی بیٹیوں کی طرح تھیں اور گزشتہ دو ماہ سے اس کشتی میں رہائش پذیر تھیں۔

پولیس کو کشتی کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونا پڑا۔

بی بی سی کے جنوبی ایشیا کے نمائندے سنجے مضمدار کے مطابق ان خاتون کی عمر چوبیس برس تھی اور ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم اور فورینزک معائنے کے لیے لیجایا گیا ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ ان کے ساتھ کہیں جنسی زیادتی تو نہیں کی گئی اور ان کو لگنے والے زخموں کی نوعیت کیا ہے۔

اسی بارے میں