ممبئی: عمارت کے بلڈر سمیت 9 گرفتار

Image caption پولیس اہلکار عمارت تعمیر کرنے والوں میں سے ایک جمیل قریشی کو گرفتار کر کے لیجا رہے ہیں۔

بھارتی پولیس نے تجارتی شہر ممبئی کے علاقے تھانے میں گزشتہ دنوں گرنے والی ایک عمارت کے تعمیر کرنے والوں اور دوسرے نو افراد کو حراست میں لیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طور ایک بلند عمارت تعمیر کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق منہدم ہونے والی غیر قانونی رہائشی عمارت کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 74 تک پہنچ گئی ہے اور سینیچر کو مزید بچ جانے والوں کی تلاش کا کام روک دیا گیا ہے۔

حراست میں لیے جانے والے افراد میں دو بلڈرز، پولیس افسران اور مقامی انتظامیہ یعنی مینوسپلٹی کے اہلکار شامل ہیں۔

یہ عمارت جمعرات کو زمیں بوس ہو گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سات منزلہ عمارت غیر قانونی طور پر محکمۂ جنگلات کی زمین پر تعمیر کی جا رہی تھی اور اس کی چار منزلیں زیر استعمال تھیں۔

اس سے قبل حکام نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا تھا جبکہ ڈپٹی میونسپل کمشنر اور سینیئر پولیس اہلکار کو اپنے فرائض سے غفلت برتنے اور عمارت تعمیر کرنے والوں سے مبینہ ساز باز کرنے پر معطل کر دیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور رہائشی عمارتوں کی طلب کی وجہ سے اسی طرح کی کئی غیرقانونی عمارتیں زیرِ تعمیر ہیں۔

پولیس کمشنر کے پی راگونشی کے مطابق بلڈرز کو مبینہ طور پر پولیس اور میونسپل انتظامیہ کو رشوت دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں بغیر قانونی کارروائی کے عمارت تعمیر کی جا رہی تھی۔

راگونشی کے مطابق ان افراد پر مجرمانہ طریق پر قتل، اور لاپرواہی کے نتیجے میں ہلاکتوں کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا جب اس واقعے کی مکمل ہو جائیں گیں۔

اگر ان افراد پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ممکن ہے کہ عدالت انہیں عمر قید کی سزا دے دے۔

اس عمارت کے گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے اکثر افراد غریب اور دیہاڑی دار مزدور تھے جن میں سے کئی اسی عمارت کی تعمیر پر کام کر رہے تھے اور اپنے خاندانوں کے ساتھ وہاں رہتے تھے۔

یاد رہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تیس بچے اور اٹھارہ خواتین شامل ہیں۔

Image caption عمارت گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے محمد صادق انصاری کی میت تدفین کے لیے لیجائی جا رہی ہے۔

عمارت کی چار منزلوں پر لوگ رہائش پذیر تھے جبکہ اس کے اوپر کی منزلوں پر تعمیر کا کام بھی جاری تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق اس عمارت پر کام چھ ہفتے قبل شروع کیا گیا جس دوران اس کی سات منزلیس تعمیر کر لی گئیں اور آٹھویں منزل ان دنوں زیرِ تعمیر تھی جب عمارت زمیں بوس ہو گئی۔

ایک پولیس اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو جمعے بتایا تھا کہ جمعرات کی شام کو عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوا اور اس کے نتیجے میں عمارت کا پورا ڈھانچہ زمین بوس ہو گیا جبکہ ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عمارت بظاہر ناقص تعمیراتی سامان استعمال کرنے کے باعث منہدم ہوئی۔

بھارت میں ناقص تعمیراتی سامان اور طریقۂ کار کی وجہ سے عمارتیں گرنے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں